پنجشیر کی لڑائی میں شدت آگئی، لوگ پہاڑوں پر جا کر رہنے پر مجبور ہو گئے

افغان وادی پنجشیر کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ اگر پنجشیر کی طرف جانے والی سڑکیں نہیں کھولی گئیں تو صوبے کے لوگ بھوکے مریں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کچھ خاندان جو پنجشیر سے کابل بھاگ کر آئے ہیں، ان کا کہناتھا کہ صوبے میں

ٹیلی کمیونیکیشن، بجلی اور رابطہ سڑکیں بند ہیں۔ایک خاندان جس کا نوجوان بیٹا پنجشیر جنگ میں مارا گیا تھا، کا کہنا تھا کہ وہاں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے۔متاثرہ خاندان کی شائستہ مہرابن نے بتایا کہ لڑائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگ پہاڑوں پر جا کر رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی سابق جہادی رہنما عبدالرسول سیاف نے شہریوں اور ان کی املاک کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔سیاف کا کہنا تھا کہ پنجشیر میں لڑائی فوری طور پر رکنی چاہیے۔دوسری جانب طالبان کا کہنا تھا کہ پنجشیر میں لڑائی میں کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ پنجشیر میں حالات اب نارمل ہیں۔سمنگانی کا کہنا تھا کہ پنجشیر میں حالات نارمل ہیں۔ یہ علاقہ اب امارت اسلامیہ مجاہدین کے کنٹرول میں ہے اور بہت سے شہریوں کو ہلاک اور تشدد کا نشانہ بنانے والی افواہیں جھوٹی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں