آکسیجن کی طلب پوری نہیں کرسکتے ، آکسیجن کی کمی پوری کرنے کے لیے ہسپتال متبادل بندوبست کریں۔ کمپنیوں نے ہاتھ کھڑے کردیے

ملک میں آکسیجن کی طلب میں اضافہ ، کمپنیوں نے  طلب پوری کرنے سے معذرت ..

ملک بھر میں آکسیجن کی طلب میں اضافہ ہوگیا ، بڑی کمپنیوں نے اضافی طلب پوری کرنے سے معذرت کرلی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مختلف ہسپتالوں میں آکسیجن کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن گیس کمپنیاں آکسیجن کی طلب پوری کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں ہوگئی ہیں ، اس حوالے سے پاکستان آکسیجن کی جانب سے ہسپتالوں کے نام ایک خط لکھا گیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی اور لاہور میں قائم 3 پلانٹس پیداواری گنجائش پر چل رہے ہیں لیکن آکسیجن کی اضافی طلب پوری نہیں کرسکتے ، اس لیےآکسیجن کی کمی پوری کرنے کے لیے ہسپتال متبادل بندوبست کریں ، کسی بھی ناخوشگوار صورت حال کی ذمہ داری پاکستان آکسیجن پرعائد نہیں ہوگی۔
دوسری جانب حکومت نے کورونا مریضوں میں اضافے پر صنعتوں کیلئے آکسیجن سپلائی معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ خیبرپختونخواہ اور پنجاب میں آکسیجن بیڈز پر1500 سے زائد مریضوں کی تعداد ہوگئی، صنعتوں کیلئے آکسیجن سپلائی معطل کرکے کورونا مریضوں کو آکسیجن فراہم کی جائے گی ، کوویڈ کے اوپر ایک استحکام نظر آرہا تھا،لیکن اب کیسز بڑھ رہے ہیں،لیکن اب خیبرپختونخواہ اور پنجاب میں بیڈز 1500سے بڑھ گئے ہیں، پاکستان میں آکسیجن کی جتنی صلاحیت موجود ہے ، اس میں 70 فیصد استعمال ہورہی ہے، اگرایک دوروزمیں صورتحال بہتر نہ ہوتی تو صنعتوں کیلئے آکسیجن کی سپلائی معطل کردیں گے اور ہسپتالوں میں مریضوں کو آکسیجن فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار 37نئی ادویات کی مینوفیکچرنگ شروع کررہے ہیں، ان کی قیمت کا تعین کیا گیا ہے ، 12ادویات کی قیمت میں ردوبدل کیا گیا ہے، اگر قیمت نہیں بڑھاتے تو ادویات بلیک میں چلی جاتی ہیں اور وہ چارگنا مہنگی ملتی ہے، کیونکہ ڈالر مہنگا ہونے سے ادویات کا خام مال مہنگا ہوگیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں