پہلے چھوٹا سا ٹھیلا تھا، لیکن اب دنیا کا سب سے بڑا ریستوران بن گیا اور ۔۔ جانیے میکڈونلڈ کے مالک نے کیسے چند روپے سے کروڑوں کمائے وہ معلومات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

آج تقریباً 6 کروڑ لوگوں کو اپنی سروسز دینے والے میکڈونلڈ پر ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب وہ ایک ٹھیلے پر کاروبار کیا کرتے تھے۔ میکڈونلڈ ایک فیملی کا نام تھا جو کہ برطانوی شہر مینچسٹر میں دی میکڈونلڈ فیملی کے نام سے جانی جاتی تھی۔ لیکن 1935 میں یہ فیملی امریکہ میں ہالی ووڈ میں منتقل ہو گئی۔ جبکہ میکڈونلڈ فیملی کے دو چشم و چراغ مورس میکڈونلڈ اور رچرڈ میکڈونلڈ نے ہالی ووڈ میں فلموں میں کام شروع کر دیا تھا، تاہم والد نے ہالی ووڈ سے کیلی فورنیا رہائش اختیار کر لی تھی۔ والد پیٹرک میکڈونلڈ نے آپ ی فیملی کو بھی کیلی فورنیا بلا لیا تھا۔ جہاں انہوں نے ائیرپورٹ کے ساتھ ہی ایک ٹھیلا نما چھوٹا سے چلتا پھرتا ریستوران کھول لیا تھا، جس انہوں نے دی ائیر ڈرومپ۔ جبکہ اس ریستوران میں پیٹرک میکڈونلڈ برگر خود بنا کر بیچا کرتے تھے۔ اس ٹھیلے سے اتنی کمائی ہو رہی تھی، کہ وہ باآسانی گھر کا خرچ پورا کر سکیں۔ اپنے کاروبار کو کامیاب دیکھ کر 1940 میں دونوں بھائیوں نے ایک مکمل ریستوران کھولنے کا فیصلہ کیا، جس کے لیے انہوں نے جگہ بھی کرایہ پر کی تھی۔ میکڈونلڈز باربی کیو کے نام سے کھولے گئے اس ریستوران میں 25 قسم کی مختلف چیزیں رکھی گئیں۔

اگرچہ یہ ریستوران 8 سالوں تک چلا مگر میکڈونلڈ بھائیوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ لوگ ہین برگرز کو پسند کر رہے ہیں اور زیادہ تر اسی کی کو ترجیح دے رہے ہیں. اسی صورتحال کو دیکھ کر دونوں بھائیوں نے ریستوران میں ہیم برگرز کی مقدار بڑھا دی اور باقی کھانوں کی چیزوں کو کم کر دیا، ریستوران اس وقت سب کی شہرت کا باعث بن چکا تھا جب انہوں نے سیلف آرڈر یعنی خود سے کھانا کا آرڈر لینا اور اسے ٹیبل تک لے جانا۔

کمپنی کی مدنی بڑھنے اور لوگوں کی پسند بڑھنے پر دونوں بھائیوں نے دیگر شہروں میں بھی میکڈونلڈ کی فرینچائز کھولنے کا فیصلہ کیا اور اس طرح دونوں بھائی فرنچائز سے بھی ایک خاص حصہ بطور پرافٹ کما رہے تھے۔ کیلی فورنیا ہی میں رے کروک نامی بزنس مین نے میکڈونلڈ کی فرنچائز کھولی، چونکہ رے کروک ایک چالاک بزنس مین تھے، اسی لیے انہوں نے کئی شہروں میں متعدد فرنچائز کھول لیں۔ اس طرح زیادہ فرنچائز اور دونوں بھائیوں سے زیادہ کامیاب ہونے پر رے کروک اور میکڈونلڈ برادران میں کشیدگی بڑھنے لگی۔ رے کروک کا میکڈونلڈ کو ایک خاص طریقے سے چلانا چاہتے تھے، جبکہ میکڈونلڈ کے اصل مالک کے اس حوالے سے شدید تحفظات اور اختلافات سامنے آئے تھے۔ بہترین سروسز، ایس او پیز جا خاص خیال میکڈونلڈز کو دنیا بھر میں کامیاب بنا رہا تھا، اسی وجہ سے رے کروک نے میکڈونلڈ برادران سے کمپنی کے حقوق خریدنے کا فیصلہ کر لیا، کروک نے میکڈونلڈ برادران کو 27 لاکھ ڈالرز میں حقوق خریدنے کی آفر کی تھی جو کہ اس وقت پاکستانی 27 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ 27 لاکھ ڈالرز نے شاید میکڈونلڈ برادران کو اس وقت اچھی آفر کے باعث اسے قبول کرنے پرمجبور کر دیا ہو۔ مگر یہی میکڈونلڈ کروک کی سربراہی میں امریکی کی سب سے بڑی فاسٹ فوڈ کمپنی کے طور پر سامنے آئی تھی۔

1972 تک میکڈونلڈ کے اثاثے تقریباً 50 کروڑ ڈالرز تک پہنچ چکے تھے اور ایک ارب ڈالرز سے زائد کی سیل ہو چکی تھی، جبکہ پہلی فرنچائز کینیڈا میں بھی کھل چکی تھی۔میکڈونلڈز ایک ایسی امریکی فاسٹ فوڈ کمپنی ہے جس میں ہر 8 میں سے ایک امریکی نے کبھی نا کبھی کام کیا ہے، جبکہ میکڈونلڈ فرنچائز میں نظر آنے والا جوکر بھی میکڈونلڈ نے اسی بنا پر ملازمت سے نکال دیا تھا کہ جوکر کا وزن بڑھ رہا ہے۔ میکڈونلڈ کی اپنی ایک یونی ورسٹی ہے جو کہ میکڈونلڈ ہیم برگر یورنیورسٹی کے نام سے جانی جاتی ہے، جو کہ برگر بنانے سے متعلق کافی مشہور ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں