افغانستان میں تمام تجارتی لین دین افغان کرنسی میں ہوگا ٗطالبان کا دوٹوک اعلان

کابل ٗ نیویارک (این این آئی)افغانستان میں تمام تجارتی لین دین افغان کرنسی میں ہوگا۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر کرنسی کے حوالے سے بیان جاری کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغان طالبان کا کہنا تھا کہ ملک کی شناخت بہت اہم ہے، ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جو وطن کے مادی اور روحانی مفادات کے خلاف ہو۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے قائمہ
کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پاکستانی وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے بتایا تھا کہ افغانستان کو ڈالر کی کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، اس لیے افغانستان کے ساتھ تجارت ڈالر

میں نہیں پاکستانی روپے میں ہو گی۔انہوں نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے افغانستان کے ڈالر روک رکھے ہیں، افغانستان کی صورتِ حال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی )نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک کے سیاسی اور معاشی بحران کو قابو نہ کیا گیا تو 97 فیصد افغان آبادی کا خطِ غربت سے نیچے جانے کا اندیشہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مختلف منظرناموں پر گفتگو کرتے ہوئے یو این ڈی پی کی تشخیص میں پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت پر زور دیا گیا۔اس تشخیصی مطالعہ میں بڑھتی ہوئی شدت اور تنہائی کے چار ممکنہ منظرناموں کا تجزیہ کیا گیا جو ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی جی ڈی پی 13.2 فیصد تک سکڑ سکتی ہے، جس سے غربت کی شرح میں 25 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔اس تشخیص میں تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار (2018) کی بنیاد پر افغانستان کے منظر
ناموں کو فرض کر نے کے لیے قابل حساب عمومی توازن ماڈل استعمال کیا گیا۔ماڈلنگ میں تمام بڑے شراکت داروں کے ساتھ تجارت میں 2 ماہ کے تعطل، پیسہ خرچ کرنے کی صلاحیت میں 4 فیصد کمی اور مواصلات میں رکاوٹ کے مفروضوں کے ذریعے ایک بدترین منظر نامے کی نشاندہی کی گئی۔تشخیص کے مطابق ان تمام پہلوں کا مجموعی خط غربت کو مزید نیچے لے جانے کا
سبب بن سکتا ہے جو ابھی 72 فیصد ہے۔پاکستان کے ساتھ تجارت میں 2 سے 4 ماہ کے تعطل کے پہلے منظر نامے میں مجموعی ملکی پیداوار 3.8 فیصد کمی کے ساتھ 8 فیصد ہوسکتی ہئے جبکہ سال 2020 کے مقابلے غربت کا اثر 7 سے 16 فیصد تک بڑھ جائے گا۔دوسرے منظر نامے کے مطابق تمام بڑے شراکت داروں کے ساتھ تجارت دو ماہ کے لیے رک گئی تو حقیقی جی ڈی پی 12 فیصد کم
ہو جائے گی اور غربت کے اثرات 2020 سے تقریبا 23 فیصد بڑھ جائیں گے۔تیسرے منظرنامے میں کم شدت کا بحران دکھائی دے رہا ہے جس میں بکھری ہوئی معیشت ہے اور صرف پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی تجارت میں رکاوٹ ہے، چنانچہ فرض کیا گیا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت دو سے چار ماہ کے لیے رکی ہوئی ہے جس سے پیسہ خرچ کرنے
کی صلاحیت 2 فیصد کم ہوگی پیداوار اور رابطے کے عوامل کی اعلی قیمت متاثر ہے، حقیقی جی ڈی پی 5.5 فیصد سے 11 فیصد تک گر جائے گی جبکہ غربت 2020 کے مقابلے 10 سے 20 فیصد تک بڑھ جائے گی۔چوتھے منظر نامے میں فرض کیا گیا ہے کہ تمام بڑے شراکت داروں کے ساتھ تجارت دو ماہ کے لیے رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں حقیقی جی ڈی پی میں 13.2 فیصد کمی ہوجائے گی، یہ منظر نامہ تقریبا 97 فیصد آبادی کی عالمگیر غربت کا منظر پیش کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں