یونیورسٹی سے ملنے والامعاوضہ میری ضرورت پوری نہیں کرتااس لیے رات کو پیزابیچتاہوں،ڈاکٹرعمروفہمی

ایک 32 سالہ مصری شخص کی متاثرکن کہانی سامنے آئی ہے جو پیشے کے اعتبار سے ایک استاد ہے اورایک نجی یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔ دلچسپ کہانی یہ ہے کہ وہ دن کو یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے اور رات کو اپنی پیزا شاپ چلاتا اور خود پیزے بنا کرفروخت کرتا ہے۔ڈاکٹر عمرو فہمی جو اس وقت 30 کے پیٹے میں ہیں نے اپنی کہانی عرب ٹی وی کو بیان کی اور بتایا کہ میں نے 2012 میں یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔
سنہ 2013 میں ایک نجی یونیورسٹی میں اکنامکس اور مارکیٹنگ کی تدریس شروع کردی۔

2016 میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔انہوں نے کہاکہ اس کی یونیورسٹی کے کام سے ملنے والا معاوضہ میری ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔ میں نے سوچا کہ یونیورسٹی میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ کوئی دوسرا کام بھی کرنا چاہیے تاکہ میں مزید تعلیم بھی جاری رکھ سکوں اور خاندان کی کفالت کی ذمہ داریوں کی انجام دہی بھی کر سکوں۔ مجھے برگر اور پیزا پسند تھے۔ چنانچہ میں نے برگر تیار کرنے کے لیے ایک موبائل ٹھیلا خریدا اور اس میں برگربنا کرفروخت کرنا شروع کردیے۔ میں نے کئی سال تک برگر فروخت کئے اور اب دوستوں کے ساتھ مل کر جنوبی قاہرہ میں الاھرام گارڈن میں ایک پیزاریسٹورینٹ کھولا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں