ایک بیٹے کے ساتھ واپس والد کے گھر آگئی ۔۔۔ جانیں مسرت مصباح کی کہانی جو شاید آپ بھی نہیں جانتے ہوں گے

مجھے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا لیکن گھر والوں نے میری شادی کردی اور شادی کے وقت میں صرف سترہ سال کی تھی۔

جلے ہوئے چہرں کی مفت سرجری کرتی ہیں
مسرت مصباح کے نام سے کون واقف نہیں۔ یہ نا صرف ایک ماہر بیوٹیشن ہیں بلکہ “ڈیپلیکس سیلون“ جیسا معروف ادارہ چلا رہی ہیں جس کی کراچی کے علاوہ لاہور میں بھی کئی برانچز ہیں۔ مسرت مصباح اپنی کاسمیٹکس رینج بھی متعارف کرواچکی ہیں جو خواتین میں کافی مقبول ہے ان سب باتوں کے علاوہ مسرت ایک سماجی کارکن بھی ہیں جو ایسی خواتین کو اپنے ادارے میں جاب دیتی ہیں جن کے چہرے تیزاب پھینکے جانے کی وجہ سے جھلس جاتے ہیں اور ان کی مفت سرجری بھی کرتی ہیں۔

ایک بیٹے کے ساتھ والد کے گھر واپس آگئی
ایک انٹرویو میں مسرت نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ “میری شادی کامیاب نہیں ہوسکی اور میں ایک بیٹے کے ساتھ اپنے والد کے گھر واپس آگئی میرے والد نے کہا کہ آپ پڑھائی مکمل کرلیں لیکن میں نے کہا ڈیڈی میں اب اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتی ہوں اور اپنے یٹے کو میں خود پالوں گی“۔

چھوٹے بچے کو والدین کے پاس چھوڑ کر میں لندن چلی گئی
مسرت نے بیوٹیشن کی فیلڈ مٰں آنے کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے اپنے والد کے ساتھ مل کر کافی جگہوں ہر ایپلیکیشن دی جس میں سے سب سے پہلے انھیں لندن نے جوابی خط موصول ہوا اور وہ اپنے نیٹے کو والدین کے حوالے کرکے ٹریننگ کے لئے لندن چلی گئیں جہاں انھوں نے کاسمیٹالوجی کا کورس کیا۔

والد نے ایک سیلون سیٹ کرکے دیا تھا
مسرت کہتی ہیں جب وہ واپس آئیں تو ان کے والد نے ان کے لئے طارق روڈ کے فلیٹ میں ایک سیلون سیٹ کرکے دیا تھا جس پر مسرت نے انھیں کہا کہ ڈیڈی یہ تو نائی کی دکان جیسی ہے تو ان کے والد نے جواب دیا جہاں میں بال کٹوانے جاتا ہوں یہ اس سے اچھا سیلون ہے تو مسرت نے پھر کام کرنے کی ہامی بھرلی۔ مسرت کہتی ہیں کہ مجھے اپنے کام سے عشق ہے یہی وجہ سے کہ ایک چھوٹے سے سیلون سے شروعات کرنے کے بعد آج میرے ملک بھر میں 96 سیلون ہیں۔ نئی نسل کی لڑکیوں کو پیغام دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ زندگی میں کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیئے۔ محنت پوری کریں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں