برطانیہ کی جانب سے پاکستان سمیت 24 ممالک کو رواں ہفتے ریڈ لسٹ سے نکالے جانے کا امکان، ذرائع

برطانیہ جانے کے خواہشمند افراد کیلئے خوشخبری، برطانیہ کی جانب سے پاکستان سمیت 24 ممالک کو رواں ہفتے ریڈ لسٹ سے نکالے جانے کا امکان- تفصیلات کے مطابق برطانوی آن لائن اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق پی سی ٹرویل ایجنسی کے سی ای او پال چارلس نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں کورونا کی کوئی نئی قسم سامنے نہیں آئی جبکہ برطانیہ میں کورونا کے ڈیلٹا قسم پر بھی کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کی روشنی بہت سارے ممالک کو ریڈ لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سفری شعبے کو مضبوطی سے بحال کرنے میں مدد دینے کے لئے اس فہرست حجم تیزی سے کم کیا جاسکتا ہے۔ اب کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے جس پر سفر کو روکا جائے۔

یاد رہے کہ اپریل میں برطانیہ نے پاکستان سمیت کئی ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا تھا۔

برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ ان ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کو کورونا وائرس کی نئی اقسام سے بچایا جا سکے۔ برطانوی حکومت نے اس فیصلے کے حوالے سے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان ممالک سے آنے والے ایسے افراد جن کے پاس برطانیہ یا آئرلینڈ کی شہریت موجود ہو یا کسی تیسرے ملک کے ایسے شہری جن کے پاس برطانیہ کا ریزیڈنسی ویزا موجود ہو، انھیں برطانیہ پہنچے پر 10 دن تک سرکاری طور پر منظور شدہ ہوٹل میں لازمی قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔
خیال رہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق پاکستان سے آنے والوں پر 10 روزہ ہوٹل قرنطینہ کی پابندی لازم ہے ، جس کے پیش نظر قرنطینہ میں رہنے والے افراد کو 2 ہزار پاؤ نڈ یعنی پانچ لاکھ پاکستانی روپے کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعد ازاں برطانیہ نے ہوٹل میں قرنطینہ کے اخراجات میں بھی تقریباً 400 پاؤنڈ کا اضافہ کر دیا تھا جو قرنطینہ کرنے والوں کو خود ادا کرنے ہوں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان کی وفاقی کابینہ نے پاکستان کو ریڈلسٹ میں رکھنے پراعتراض کرتے ہوئے برطانوی چارٹرڈ طیارے کی پاکستان میں 9 ستمبر کو لینڈنگ کی اجازت دینے کی سمری مئوخر کر دی تھی۔ وفاقی وزراء نے اعتراضات اٹھایا کہ پوری دنیا کو چھوڑ کر صرف پاکستان کو ریڈ لسٹ پر برقرار رکھا گیا، برطانیہ کی ریڈ لسٹ کی وجوہات غیرتسلی بخش ہیں، امید ہے برطانیہ اپنی پالیسی کا جائزہ لے گا۔
وفاقی وزراء نے اعتراضات اٹھایا کہ پوری دنیا کو چھوڑ کر صرف پاکستان کو ریڈ لسٹ پر برقرار رکھا گیا، برطانیہ کی ریڈ لسٹ کی وجوہات غیرتسلی بخش ہیں، امید ہے برطانیہ اپنی پالیسی کا جائزہ لے گا۔ اجلاس میں برطانیہ کیساتھ مجرمان کی حوالگی کیلئےایم او یو کی سمری پر تفصیلی بحث ہوئی ، وزرا نے پاکستان کوریڈ لسٹ پر رکھنے پر شدید اعتراض کیا اور 9 ستمبر کو چارٹر طیارے کی پاکستان لینڈنگ کی منظوری روک دی گئی تھی۔وفاقی وزرا اسد عمر، بابر اعوان اور شیخ رشید نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا کو چھوڑ کر پاکستان کو ریڈ لسٹ پر برقرار رکھا گیا، برطانیہ کی بتائی گئی ریڈ لسٹ کی وجوہات غیرتسلی بخش ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں