میری عمر 73 سال ہے جس عمر میں لوگ آرام کرتے ہیں میں کام کر رہا ہوں کیونکہ ۔۔ بزرگ فوڈ رائڈر کی کہانی جو بیٹے پر بوجھ نہیں بننا چاہتے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )انسان ایک عمر کو آکر دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے اور گھر کے بستر پر اس کی باقی کی زندگی گزرتی ہے۔ اور وہ عمر ہوتی ہے بڑھاپے کی جس میں انسان اپنی اولاد پر انحصار کرنے لگتا ہے۔لیکن یہاں ایک ایسے محنت کش شخص کے بارے میں آپ کو بتانے جا رہے ہیں جو 73 سال کی عمر میں فوڈ ڈیلیوری بوائے کی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں اور کسی
پر بوجھ بنے بغیر اپنا کام انجام دے رہے ہیں۔یہ ہیں اسلام آباد کے علاقے گولڑہ شریف کے رہائشی 73 سالہ وزارتِ خزانہ کے رئیٹائرڈ سُپرنٹینڈینٹ

فیاض اختر فیضی صاحب۔ہماری ویب کی رپورٹ کے مطابق فیاض اختر اس عمر میں اپنے خاندان کی کفالت کی ذمہ داریوں کو نبھانے کیلے پرجوش ہیں اور موٹر سائیکل پر فوڈ پانڈا کی فوڈ ڈیلیوری کا کام انجام دے رہے ہیں۔ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر میں اس عمر میں یہ کام کر رہا ہوں تو آپ لوگوں نے بھی اس عمر میں کام سے نہیں گھبرانا۔فیاض اختر کا کہنا تھا کہ عمر جو بھی ہو کام لازمی کرتے رہو تاکہ عزت رہے۔ فیاض صاحب نے اپنی تعلیم سے متعلق بتایاکہ انہوں نے سن 1974 میں گریجوئشن مکمل کی اور اس سے قبل میں نے وزارت خزانہ میں بطور اسٹنٹ سکیل پندرہ میں کام کیا ہے۔فیاض اختر نے بتایا کہ سال 2003 میں انہوں نے اپنی نوکری سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی اور مجھے ماہانہ پچیس ہزار روپے پنشن مل رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میری عمر 73 ہوگئی ہے جس میں مجھے آرام کرنا چاہیئے تھا مگر میں فوڈ پانڈا کے لیے کام کر رہا ہوں۔ میں نے سوچا موٹر سائیکل پر لوگوں کو چیزیں دے دیتا ہوں۔73 سالہ فوڈ ڈیلیوری بوائے کا کہنا تھا کہ کسی نے میری حوصلہ شکنی نہیں کی بلکہ مجھے اس عمر میں کام کرتے ہوئے سراہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ بابا جی آپ ا س عمر میں بھی کام کر رہے ہیں لیکن میں انہیں یہی کہتا ہوں کہ مانگنے سے بہتر ہے میں اپنا کام خود کروں۔ وزارتِ خزانہ کے رئیٹائرڈ سُپرنٹینڈینٹ فیاض اختر کا مزید کہنا تھا کہ میں ایک معقول طریقے سے کام کر رہا ہوں ، لوگ میری عزت کرتے ہیں ااور مجھے بے حد خوشی محسوس ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں