بچوں کی فیس ہی لاکھوں میں تھی۔۔ اسد عمر کے بیوی اور بچے کون ہیں؟ جانیے ان کی فیملی سے متعلق وہ سچ، جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

سیاست دان ایک ایسا نام ہے جو کہ عموما منفی طور پر خبروں میں نظر آتا ہے، چاہے وہ کسی کے خلاف بات کرنا ہو یا پھر کسی پروگرام میں لڑائی جھگڑا کرنا ہو، سیاست دان ہمیشہ ہی برے دکھائی دیتے ہیں۔

سیاست دان کے بارے میں بتائیں گے جن کا ایک اور بھائی سیاست دان ہے اور دونوں بھائی حریف جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسد عمر اور محمد زبیر وہ سیاست دان ہیں، جو کہ سیاسی زندگی میں آگ اور پانی کا رشتہ رکھتے ہیں لیکن جب کبھی یہی بھائی گھر میں یا کسی خاندانی تقریب میں ملتے ہیں تو لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ سیاسی اختلاف بھی رکھتے ہیں۔

9 ستمبر 1961 کو پیدا ہونے والے اسد عمر اپنے بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ اسد عمر کے والد آرمی آفیسر تھے جبکہ ان کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ اسد عمر کی ہنر مندی اور صلاحیتوں کی بنا پر ان کا انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں داخلہ ہو گیا اور 1984 میں انہوں نے آئی بی اے سے ایم بی اے کیا تھا۔

1985 میں اسد عمر نے اینگرو کمپنی کو جوائن کیا تھا، وہ اینگرو میں بطور بزنس تجزیہ کار کام کر رہے تھے۔ لیکن وہ بیرون ملک چلے گئے تھے اور پھر 1997 میں پاکستان واپس آئے، اینگرو پالیمرز اور کیمیکلز کے سی ای او کے طور پر سامنے آئے۔ 2004 میں وہ کمپنی کے صدر بن گئے اور کمپنی کو ایک کیمیکل کمپنی سے ایک بڑھا کر مزید چیزیں شامل کر لیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج انگرو کمپنی ڈیری اور فوڈ بزنس کو بھی دیکھ رہی ہے۔ اسد عمر پاکستان تحریک انصاف کے فعال رہنما ہیں جو کہ ہر موقع پر اپنی حکومت اور پارٹی کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ اس وقت اسد عمر وزارت پلیننگ اور ڈیویلپمنٹ کو سنبھال رہے ہیں اس سے پہلے وہ وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔

اسد عمر ایک ایسے عہدے پر رہ چکے ہیں جہان جانے کے لیے اکثر لوگ خواہش کرتے ہیں لیکن اسد عمر نے سی ای او کی پوسٹ سے استعفیٰ دے کر عمران خان کے قافلے میں شامل ہو گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے خان صاحب نے متاثر کیا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ سیاست میں ایسے لوگ اپنا حصہ ڈالیں جنہیں گورننس کا پتہ ہو۔

اپنی پہلی نوکری سے متعلق بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری پہلی نوکری ایک بینک میں ہوئی تھی، جبکہ میری تنخواہ 3 ہزار 200 روپے تھی۔ دوسری جگہ جہاں نوکری کی وہاں میری تنخواہ 8 ہزار روپے تھی۔ میری تنخواہ 70 لاکھ روپے تھی، جو کہ بہت کم لوگوں کی ہوتی ہے۔

اسد عمر بتاتے ہیں کہ شروعات میں میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا، میں بسوں میں دھکے کھاتا تھا، اس وقت امی سے میں نے 30 ہزار سے 32 ہزار روپے امی سے ادھار لیے جبکہ اتنے ہی پیسے میرے پاس موجود تھے۔ میں نے ان پیسوں سے سوزوکی 800 خریدی تھی۔ جبکہ اسد عمر کہتے ہیں کہ آج میں جس مقام پر ہوں، اس میں میرے مینٹور شوکت صاحب کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

اینکر نے سوال کیا کہ آپ ہر ماہ لاکھوں روپے لیتے تھے، تنخواہ بند ہو گئی، اب گزارا کیسے کرتے ہیں؟ اس سوال پر اسد عمر نے کہا کہ میری بیوی اس حوالے سے پریشان ہوتی ہے مگر جتنی ضرورت ہے اور توفیق سے اس سے زیادہ ہی اللہ نے عطا کیا ہے۔ اپنی بیگم سے متعلق اسد عمر کہتے ہیں کہ میری بیگم ہی گھر کو سنبھالتی ہیں جبکہ وہ ایک ٹیچر بھی ہیں۔ مجھے اندازہ نہیں ہے گھریلو اخراجات کا البتہ میرا گزارا چند ہزار میں ہو جاتا ہے۔ جبکہ وہ کہتے ہیں تقریبا ایک لاکھ روپے ماہانہ خرچ ہوتے ہیں جس میں سے زیادہ تر بچوں کی تعلیم پر خرچ ہوتے ہیں۔

بچوں کی فیس ہی تیرا ہزار پاؤنڈ ہے تو اس طرح کل ملا کر بچوں کے تعلیمی خراجات 27 ہزار پاؤنڈ بنتے ہیں جو کہ پاکستانی لاکھوں روپے بنتے ہیں۔

شادی سے متعلق اسد عمر کہتے ہیں کہ اہلیہ سے پہلی ملاقات آئی بی اے میں ہوئی تھی، اس وقت میں دو سال سینئیر تھا جبکہ وہ جونئیر تھیں۔ وہیں ہماری ملاقات ہوئی اور گریجوئیشن کے بعد شادی ہوگئی۔ اہلیہ نے ایم بی اے شادی کے بعد مکمل کیا تھا۔ اسد عمر کے بھائی خالد عمر کہتے ہیں کہ ہم بھائی جب بھی ملتے ہیں تو ملکی صورتحال پر بات چیت ہوتی ہے۔ جبکہ بھابھی کہتی ہیں کہ اسد 10 سال کا تھا جب میری شادی ہوئی تھی، میں آج بھی اسد کو اپنا بچہ ہی سمجھتی ہوں۔ بھائی محمد زبیر سے متعلق کہتی ہیں میری اور زبیر بھائی کی آپس میں بہت اچھی بنتی ہے، ہم نے بچپن میں بہت اچھا وقت گزارا اور میں ان سے کافی قریب تھا۔

اسد عمر کو ان کے بھائیوں محمد زبیر، خالد عمر، طارق عمر اور خود اسد عمر کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں