عوام اب مزید تکلیف برداشت نہیں کرسکتے، اب ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں گے، پی ٹی آئی رکن اسمبلی فضل الہی

عوام اب مزید تکلیف برداشت نہیں کرسکتے، اب ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں گے، پی ٹی آئی رکن اسمبلی فضل الہی نے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر نکلنے اور واپڈا ہاؤس و سوئی گیس دفاتر کو تالے لگانے کا اعلان کردیا-خیبرپختونخوا حکومت کے پارلیمانی سیکرٹری فضل الہی نے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر نکلنے اور واپڈا ہاؤس و سوئی گیس دفاتر کو تالے لگانے کا اعلان کردیا۔
پشاور میں منعقدہ جرگے میں بات کرتے ہوئے فضل الہی کا کہنا تھا کہ محکمہ سوئی گیس اور پیسکو افسران پی ٹی آئی حکومت کے خلاف سازشیں کررہے ہیں، گیس پریشر اور بجلی کا مسئلہ بنا کر پی ٹی آئی کو بدنام کیا جارہا ہے۔ فضل الہیٰ نے کہا کہ عوام اب مزید تکلیف برداشت نہیں کرسکتے، اب ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں گے، گیس پریشر اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو عوام کے ساتھ سڑکوں پر ہوں گے، محکمہ سوئی گیس اور واپڈا ہاؤس کو تالے لگائے جائیں گے۔

واضح رہے چند روز قبل وزیر اعظم نے بجلی کے بلوں کی باقاعدگی سے ادائیگی کرنے والے صارفین کو لوڈ شیڈنگ کی دقت سے بچانے کے لئے توانائی ڈویژن کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایسے گرڈ اسٹیشنز میں جہاں وصولیوں کا تناسب کم ہے وہاں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لائیں تاکہ باقاعدگی سے ادائیگی کرنے والے صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء محمد حماد اظہر، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، اسد عمر، شوکت فیاض ترین، ڈاکٹر فروغ نسیم، چوہدری فواد احمد، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعلی خیبر پختونخوامحمود خان، معاون خصوصی طابش گوہر، وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا، وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ، وزیر بین الصوبائی رابطہ بلوچستان عمر جمالی، چیرمین نیپرا توصیف فاروقی اور سینئیر وفاقی و صوبائی حکومتوں کے افسران شریک ہوئے۔
توانائی ڈویژن نے اجلاس کو بجلی کی پیداواری اضافے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ یہ منصوبہ بندی دس سال کے لیے کی جاتی ہے جس میں ہر سال طلب و رسد کے مطابق ان تخمینوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ضروریات کے مطابق حکمت عملی میں ضروری تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ اس پلان کا مقصد توانائی کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنا اور صارفین کوسستی بجلی فراہم کرنا ہے۔
توانائی ڈویژن نے آگاہ کیا کہ تمام صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر حکومت سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے بجلی کے بلوں کی باقاعدگی سے ادائیگی کرنے والے صارفین کو لوڈ شیڈنگ کی دقت سے بچانے کے لئے توانائی ڈویژن کو ہدایت دی کہ وہ ایسے گرڈ اسٹیشنز میں جہاں وصولیوں کا تناسب کم ہے وہاں جدید ٹیکنالوجی کو برؤے کار لائیں تاکہ باقاعدگی سے بلز ادا کرنے والے صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں