سانولا رنگ، بڑی آنکھیں اور چھوٹی سی ناک۔۔ جانیے مصر کی اس شہزادی کی پراسرار موت کے بارے میں دلچسپ معلومات

دنیا کی کئی ایسی مشہور شخصیات ہیں جو کہ کسی نا کسی وجوہات کی بنا پر دنیا میں مشہور ہو گئے ہیں اور اب جب وہ نہیں ہیں، تو پھر بھی ان کو یاد کیا جاتا ہے، چاہے فلموں میں یا پھر شخصیت کے طور پر۔ ہماری ویب کی اس خبر میں آپ مصر کی ایک ایسی ملکہ کے بارے میں بتائیں گے جو کہ معصوم ترین ملکہ تھی، جو دوسروں کے غیب و غضب کا نشانہ بھی بنی اور پھر پراسرار موت کا شکار بھی ہوئی۔

مصر میں عموما ایسے فرعون تھے جو کہ ظالم یا اپنی نوعیت کے حیرت انگیز فرعون ثابت ہوئے تھے۔ صرف فرعون ہی نہیں بلکہ کلیوپترا جیسی ایک ایسی ملکہ بھی گزری ہے جس نے روم کو جلا کر رکھ دیا تھا۔ کلیوپترا کے ساتھ ساتھ ایک ایسی ملکہ بھی مصر پر حکومت کر چکی ہیں جنہیں غمگین اور بدنصیب ملکہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انکھ سنامون نامی ملکہ مصر کی 18 ویں حکمران خاندان کی ملکہ تھیں۔ انکھ سنامون فرعون بادشاہ اخیناتن کی بیٹی تھی جو کہ بعدازاں اپنے والد کی بیوی بھی بنی تھی۔ انکھ سنامون کی والدہ نفریتیت تھی جبکہ وہ بہنوں میں تیسرے نمبر پر تھیں، انکھ سنامون کا شمار مصر کی خوبصورت خواتین میں ہوتا تھا۔


اخیناتن ملک میں مذہبی تبدیلیوں اور سماجی پاندیوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے چونکہ اس وقت کئی دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی تھی، تو اخیناتن نے ان کے بدلے صرف ایک آگ کی پوجا کا حکم دیا تھا۔ جبکہ مصر میں خاندانی خون کو شفاف رکھنے کے لیے اُس دور میں آپس میں شادی کرادی جاتی تھی۔ جبکہ ایک اور وجہ یہ بھی کہ بادشاہت کے تخت پر کوئی دورسرا خون شامل نہ ہو پائے۔ یہی وجوہات تھیں کہ انکھ سنامون نے بھی اپنے والد اور پھر نانا سے شادی کی تھی۔ فرعون حکمران اخیناتن کی موت کے بعد جب بیٹا توتن خامن فرعون بنا، اس وقت 9 سالہ توتن خامن کی شادی اس کی بہن انکھ سنامون سے کر دی گئی تھی، جوکہ روایت کے عین مطابق تھی۔
چونکہ یہ دور تین ہزار سال پرانا تھا، اور بادشاہ کو سورج کا روپ کہا جاتا تھا، اسی لیے بادشاہ کا خون صاف رکھنے کے لیے شہزادے اور شہزادی کی شادی کرائی جاتی تھی۔ اگلے دس سالوں تک توتن خامن اور ملکہ انکھ سنامون نے کامیابی کے ساتھ حکومت کی، ان کے طرز حکمرانی کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دونوں نے اپنے باپ کے ان تمام فیصلوں کو معطل کر دیا تھا جو کہ عوام میں غم و غصے کا باعث بن رہے تھے۔ توتن خامن اور ملکہ انکھ سنامون کی دو بیٹیاں بھی پیدا ہوئیں لیکن دونوں جسمانی کمزوری کی بنا پر زیادہ دن نہ رہ سکیں اور انتقال کر گئیں۔ جبکہ ونوں کی ممیاں بھی فرعون کے مقبرے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔


اور پھر اچانک 18 سال کی عمر میں توتن خامن کی موت واقع ہو جاتی ہے جس سے انکھ سنامون تنہا ہو جاتی ہیں۔ مجبورا انہیں اپنے نانا سے شادی کرنا پڑتی ہے جو کہ اس وقت ایک قابل مشیر اور سلطنت میں سب سے بڑے وزیر کا عہدہ رکھتا تھا۔ اگرچہ انکھ سنامون اس بات ہر راضی نہیں تھیں کہ ان کے نانا ایہ سے ان کی شادی ہو، مگر چونکہ ایہ اپنی نواسی پر شادی کے لیے زور ڈال رہا تھا تاکہ وہ بادشاہ کے عہدے پر آ سکے۔ ایہ نے ملکہ پر ہر طرف سے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ غمگین ہو چکی تھیں، اور افسردہ بھی۔


ماہرین اثار قدیمہ کو ایک ایسا خط ملا ہے جس میں انکھ سنامون کی حکمرانی کے دور میں ایک خط ہتھوسا کے حکمران کو لکھا گیا تھا، ہتھوسا اس وقت کے طاقتور ترین حکمران سمجھے جاتے تھے، یہ خط بھی دراصل انکھ سنامون کی حکومت کو بچانے کے لیے لکھا گیا تھا، تاہم یہ خط کس نے لکھا ہے یہ واضح نہیں ہے۔ ہتھوسا کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ہتمی اپنے کسی بیٹے کی شادی انکھ سنامون سے کرا دیں تاکہ انکھ سنامون ایہ سے محفوظ رہے۔ ہتمیوں نے اپنے بیٹے زنانزا کو انکھ سنامون سے شادی کے لیے بھیجا تھا مگر وہ راستے میں ہی مارا گیا تھا۔


ایہ اپنی نواسی انکھ سنامون سے شادی کرنے میں کامیاب ہو گیا اور مصر کا بادشاہ بن گیا، اس شادی کے بعد انکھ سنامون کافی سہمی اور چپ چپ رہتی تھیں، انکھ سنامون کا انتقال کب اور کیسے ہوا یہ بھی کسی کو معلوم نہیں ہے۔ حتٰی کہ اس پراسرار موت کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم بھی نہیں تھا۔


اگرچہ انکھ سنامون کے گھر کے دیگر افراد کی ممی کے بارے میں سائنسدانوں کو معلومات مل گئی ہیں، مگر انکھ سنامون کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد کم عمری میں ہی انکھ سنامون کی موت واقع ہوئی ہوگی۔ جبکہ انکھ سنامون کی ممی کی تلاش تاحال جاری ہے، یہ ان قدیم ممیوں میں سے ہے جس کی تلاش آج بھی جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں