میں اگر چیئرمین پی سی بی ہوتا تو ان کے ساتھ انٹرنیشنل سیریز کھیلنے سے انکار کر دیتا، شعیب اختر برس پڑے

انگلینڈ کی سردمہری نے بابر اعظم کو بھی افسردہ کردیا۔نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ کا دورہ پاکستان بھی ختم ہونے پر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر مجھے شدید مایوسی ہوئی۔سوشل میڈیا پر انہوں نے لکھا کہ ہم نے ہمیشہ کھیل کے مفادات کو مدنظر رکھنا چاہا لیکن دوسرے ایسا نہیں کرتے، پاکستان نے کرکٹ کے سفر کو جاری رکھنے کیلیے ایک لمبا سفر طے کیا اور
یہ وقت کے ساتھ مزید بہتر ہوگا، ہم نہ صرف بقا کی جنگ میں کامیاب بلکہ ترقی بھی کریں گے۔سابق پیسر شعیب اختر نے کہا کہ گورے افغانستان سے انخلا کیلیے

پاکستان کی مدد لیتے اور پی آئی اے میں سفر کرتے ہیں،ٹور کی بات ہوتو سیکیورٹی کا جائزہ لینے سے قبل ہی انکار کردیتے ہیں، انھوں نے لاکھوں پاونڈز بچانے کیلیے پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ بلالیا، اب اسی ملک کا امیج خراب کرنے کی کوشش کی،میں اگر چیئرمین پی سی بی ہوتا تو ان کے ساتھ انٹرنیشنل سیریز کھیلنے سے انکار کر دیتا۔سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ شیر کا ایک دن بھیڑ کی ساری زندگی سے بہتر ہے، بدقسمتی سے ہم اس دنیا میں رہتے ہیں جہاں دہشت گردی نے کھیل اور تفریح کو ہر ملک میں متاثر کیا لیکن میں ایسے ملک میں کرکٹ کھیلنا پسند کروں گا جو ان حالات سے مقابلے کے لیے تیار ہو۔سابق بولنگ کوچ وقار یونس نے کہا کہ عزت کو ترجیح دینا چاہیے، رونے دھونے سے بہتر ہے دنیا کو دکھائیں کہ ہم زندہ قوم ہیں، یہ ٹیم پاکستان اور سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کا وقت ہے، ورلڈ کپ میں گرین شرٹس کو ہرپاکستانی کی سپورٹ درکار ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں