وزیراعظم عمران خان اور عراقی ہم منصب مصطفی الکاظمی کا تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کی خواہش کا اظہار

اسلام آباد (این این آئی)و زیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ خطے میں امن و امان کے لئے افغانستان میں استحکام ضروری ہے۔وزیراعظم عمران خان کو جمہوریہ عراق کے وزیراعظم مصطفی الخادیمی نے جمعرات کو ٹیلی فون کال کی۔ وزیراعظم عمران خان نے عراقی حکومت کے لئے اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
اس سے عراق میں جمہوریت اور جمہوری ادارے مزید مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے عراقی وزیراعظم کو گزشتہ ماہ تعاون و شراکت داری کے لئے بغداد کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی

دونوں رہنمائوں نے مختلف شعبوں خاص طور پر تجارت ، سرمایہ کاری ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مذہبی سیاحت میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔وزیراعظم عمران خان نے عراقی حکومت کی طرف سے ہزاروں پاکستانی زائرین کی میزبانی کو سراہا جو ہر سال عراق میں مقدس مقامات کی زیارات کے لئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مذہبی سیاحت کے فروغ کی ضرورت پر زوردیا جو دونوں ملکوں کے لئے فائدہ مند ہے۔ عراقی وزیراعظم نے پاکستانی زائرین کے مذہبی جذبات کو تسلیم کرتے ہوئے اس حوالے مزید سہولیات کی فراہمی پر رضا مندی ظاہر کی۔ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و امان کے لئے افغانستان میں استحکام ضروری ہے۔وزیراعظم نے اپنے عراقی ہم منصب کوپاکستان کی طرف سے افغانستان میں امن اور مثالت کے لئے کی گئی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے افغانستان میں امن و امان کے فروغ کے لئے بین الاقوامی برادری کی طرف سے متواتر روابط کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہاں پر کسی قسم کا انسانی المیہ اور معاشی بحران پیدا نہ ہو۔ دونوں رہنمائوں کا افغانستان کو اقتصادی بدحالی سے بچانے کے لئے فوری امداد اور فنڈز کے اجرائ￿ کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے انسانی بنیادوں پر پاکستان کی طرف سے زمینی اور ہوائی راستوں کے ذریعے مختلف طریقوں سے کئے گئے تعاون سے بھی آگاہ گیا۔دونوں وزرائے اعظم نے افغانستان میں معاشی بحران سے بچنے کے لئے انسانی بنیادوں پر افغانی عوامی کے لئے فوری مدد پر رضا مندی ظاہر کی، دونوں رہنمائوں نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو اپ گریڈ کرنے کے لئے رابطے جاری رکھنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے عراقی ہم منصب کوجلد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں