الزائمر کے مریضوں میں اضافہ، تعداد2 لاکھ تک پہنچ گئی

 یادداشت، سوچنے، گفتگو کرنے، سمجھنے اورفیصلے کرنے کی طاقت و قابلیت ناقص ہوجاتی ہے ۔ فوٹو : فائل

عالمی یوم الزائمر کے حوالے سے آغا خان یونیورسٹی میڈیسن شعبہ سیکشن نیورولوجی کے زیر اہتمام آن لائن سیمینار کاانعقاد کیاگیا جس میں ملک بھر سے ڈاکٹرز، ہیلتھ ورکرز، طلبہ و طالبات، ٹیکنالوجسٹس و تھراپسٹ نے زوم لنک کے ذریعے شرکت کی۔

پاکستان سے ڈاکٹر سارہ، ڈاکٹر عبد المالک، ڈاکٹر عارف ہریکر، ڈاکٹر ساجد حمید، ڈاکٹر محمد واسع، ڈاکٹر بشریٰ جبکہ بھارت سے ڈاکٹر من موہن مہندراتا نے گفتگوکی اورسوالات کے جوابات بھی دیے،ماہرین کا کہنا تھا کہ 30سال کی عمر کے بعد حافظے کی کم زوری کا عمل شروع ہو جاتا ہے لیکن اب بیماری کی صورت یہ شکایت بڑھتی جا رہی ہے۔

پاکستان میں 2لاکھ افراد الزائمر کا شکار ہیں،اس مرض میں یادداشت، سوچنے، گفتگو کرنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی طاقت و قابلیت ناقص ہوجاتی ہے، طبی تحقیق کے مطابق الزائمر طویل میعاد چلنے والا مرض ہے جس میں دماغ کے خلیے عام صحت مند افراد کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں جس کے باعث مریض رفتہ رفتہ اپنی ذہنی صلاحیتوں سے محروم ہوکرجلد یا دیر سے موت کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ اس مرض کے اسباب میں فضائی آلودگی ، بلڈ پریشر، وٹامن بی 12کی کمی، شوگر، نیند کی مسلسل کمی ، موٹاپا ، تساہل پسندی ، دیر سے سونا ، تمباکو نوشی اور غیر متوازن لائف اسٹائل شامل ہیں،مرض کی تشخیص منی مینٹل ٹیسٹ کے علاوہ ایم آر آئی سے بھی ہو جاتی ہے۔

اس مرض کو ختم نہیں کیا جا سکتا البتہ ادویات ، ورزش، تخلیقی اور اچھی سماجی سرگرمیوں کی مدد سے اس مرض کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے،اس مرض کے آخری مرحلے میں مریض غیر متحرک اور مکمل طور پر دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے، ایسے میں گھر والوں کا کردار نہایت اہم ہوتاہے جنھیں باقاعدہ تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں