مریم اورنگزیب کا وزیراعظم عمران خان کی ذہنی حالت پر شدید تشویش کا اظہار

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کی ذہنی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے بیان میں انہوںنے بتایاکہ میڈیا آزاد ہے میڈیا پہ کوئی پاپندی نہیں ، ہم واحد حکومت جس نے میڈیا کو آزاد رکھا ہوا ہے ‘‘ عمران صاحب کس حکومت اور کون سے میڈیا کی بات کر رہے ہیں ؟ ،عمران صاحب آپ ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں یا عوام کو پاگل سمجھتے ہیں ؟۔
انہوں نے کہاکہ عمران صاحب آج اگر ملک میں فیک نیوز پہ پاپندی ہوتی تو آپ کی تقریر میڈیا

پہ نشر نہ ہو سکتی ،آپ کی تقریر کا ہر لفظ فیک نیوز کی عالمی تشریح کے زمرے میں آتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آپ پر تنقید جھوٹی اور آپ جو صبح، شام اور رات دوسروں پہ جھوٹے الزام لگاتے ہیں وہ میڈیا دکھائے تو سچ ؟،عمران صاحب آپ نے منتخب وزیراعظم کے خلاف ڈی چوک پہ سازش کی۔ انہوںنے کہاکہ عمران صاحب آپ کو جادو نے نہیں فیک تقریروں نیوز اور فیک ووٹوں نے وزیراعظم بنایا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عمران صاحب جب آپ کی فیک نیوز میڈیا چلائے تو میڈیا کو شاباش اور جب آپ پہ تنقید ہو تو تکلیف ؟،عمران صاحب نے ہر سیکنڈ ہر منٹ ہر گھنٹہ منتخب وزیراعظم نواز شریف کے خلاف جھوٹ بولا اور آج تک بول رہے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ عمران صاحب آپ نے غیر ملکی صحافیوں کو اپنے دفتر بلا کر شہباز شریف کے خلاف فیک نیوز پلانٹ کروائی ،عمران صاحب آپ جو دوسروں کے خلاف کہیں وہ سب سچ اور آپ کے بارے میں تنقید فیک نیوز؟،میڈیا آپ کی آٹا چوری بجلی گیس دوائی کی چوری کی بات کرے تو فیک نیوز،وزیراعظم کی کْرسی پہ بیٹھ کر لوگوں کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائیں تو جائیں۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کے اختیارات کو استعمال کر کے ایف آئی اے کے ڈی جی کو سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے کیسز بنانے کو کہیں تو جائز،جب آپ کے منتخب وزیراعظم
کے خلاف 120 دن کے دھرنے کو چوبیس گھنٹے میڈیا لائیو دکھائے تو میڈیا ٹھیک تھا،جب آپ دوسروں کی ماؤں ، بیٹیوں ، بہنوں پہ جھوٹے الزام لگائیں اور میڈیا دکھائے وہ جائز،آپ عوام کا آٹا ، چینی بجلی گیس دوائی چوری کریں تو میڈیا کیا کہے؟۔ انہوں نے کہاکہ قرضہ ، مہنگائی ، بے روزگاری، معاشی تباہی ، غربت تاریخ کی بلند ترین سطح
پہ ہے میڈیا کیا رپورٹ کرے؟،پٹرول اور ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پہ آپ بتائیں میڈیا کیا رپورٹ کرے؟ ،مہنگائی اور بے روزگاری کی بلند ترین سطح کو میڈیا کم ترین کیسے کرے؟ ،ترقی کی شرح تاریخ کی کم ترین شرح کو میڈیا کیسے بڑھائے؟،پچاس لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے میڈیا کیا رپورٹ کرے ؟ ۔

انہوں نے کہاکہ آٹا 35 سے
80 روپیہ اور چینی 52 سے 120 روپیہ ہو گئی میڈیا کیا رپورٹ کرے ؟ اپنی نالائقی ، نااہلی ، جھوٹ اور کرپشن کا بوجھ میڈیا پہ نہ ڈالیں۔ انہوںنے کہاکہ میڈیا ایک کڑوڑ نوکریاں کیسے دے اور پچاس لاکھ گھر کہاں سے لائے؟،میڈیا پہ حملہ ہو ، صحافیوں کو گولیاں لگیں ، صحافی اغوا ہوں ، ٹاک شوز پہ پاپندیاں لگیں ، چینل بند ہوں تو میڈیا کیا رپورٹ کرے ۔ انہوںنے کہاکہ میڈیا کی زبان بند کے لئے کالے قانون لائے جائیں اور اپوزیشن کو سزائے موت کی چکیوں میں ڈالا جائے تو میڈیا کیا رپورٹ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں