توشہ خانہ سے گھر چلانے والا عمران خان کرپٹ ترین وزیراعظم ہے، محمد زبیر

پاکستان کا ترکی اور آذر بائیجان کے ساتھ بذریعہ روڈ رابطہ قائم ہو گیا، جو ان ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔تفصیلات کے مطابق نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) نے ترکی اور آذربائیجان کے لیے بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) کے تحت تجارتی سامان بھجوانے کی تیاری مکمل کر لی۔
نجی ٹی وی اے آروائی کے مطابق تجارتی سامان کو بین الاقوامی سرحدوں سے ترجیحی بنیادوں پر بلا تاخیر پار کرنا اب ٹی آئی آر کے تحت ممکن ہو سکے گا، این ایل سی آفیشل ٹی آئی آر

آپریٹر کی حیثیت سے تاجر برادری کو گودام سے گودام تک سامان کی ترسیل کے حوالے سے خدمات فراہم کرے گا، جس سے درآمدی و برآمدی سامان کی بروقت مال برداری یقینی بن جائے گی۔ ٹی آئی آر کے تحت دونوں ممالک کے لیے قافلے کی روانگی کے سلسلے میں کراچی میں باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی، جس میں تجارتی تنظیموں، درآمد و برآمدکنندگان اور سینئر حکام نے شرکت کی، سیکریٹری کامرس صالح احمد فاروقی نے انٹرنیشنل کارگو سروس کا افتتاح کیا۔ این ایل سی کی 8 سے 10 گاڑیاں چالیس فٹ پر مشتمل کنٹینرز کو لے کر ترکی اور آذر بائیجان کے لیے روانہ ہوں گی، تین گاڑیاں ایران سے ہوتی ہوئی گُر بولاک سرحدی ٹرمینل سے ترکی میں داخل ہو کر آخری منزل استنبول پہنچیں گی، اس انقلابی قدم سے علاقے کی منڈیاں آپس میں جڑ جائیں گی۔

کراچی سے استنبول کا فاصلہ 8 سے 10 دنوں میں طے کیا جائے گا، یاد رہے کہ بذریعہ سمندر استنبول تک برآمدی سامان پہنچانے میں تین سے چار ہفتے لگتے ہیں، دو مزید گاڑیاں آذر بائیجان بھجوائی جائیں گی جو آسترا سرحدی ٹرمینل سے ہوتے ہوئی آذر بائیجان کے دارالخلافہ باکُو پہنچیں گی، یہ گاڑیاں مذکورہ فاصلہ سات سے آٹھ دنوں میں طے کریں گی۔ ٹی آئی آر کے تحت چلائی جانے والی یہ سروس خطے میں منڈیوں تک رسائی میں انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، اس سروس سے کم لاگت میں تیز ترین ترسیل ممکن ہو سکے گی، اور خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ زمینی راستوں کی تجارت سے معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بے پناہ اضافہ متوقع ہے۔ این ایل سی مستقبل میں دوسری وسطی ایشیائی ریاستوں اور چین تک بذریعہ روڈ مال برداری کا ارادہ رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں