افغان انخلا سے دنیا بھر میں امریکی ساکھ کو نقصان پہنچا، جنرل مارک ملی

افغان فوجی اور ہمارے تربیت یافتہ شراکت دارایک طرف ہوگئے، بہت سی جگہ تو ایک گولی تک نہیں چلائی گئی، لوئیڈ آسٹن۔(فوٹو: اے ایف پی)

امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ افغانستان سے انخلا نے امریکا کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

سینیٹ کمیٹی کے سامنے دلائل دیتے ہوئے سیکریٹری دفاع لوئیڈ آسٹن، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی اور سینٹرل کمانڈ کے چیف جنرل فرانک میکینزی نے افغانستان سے امریکا کے نکلنے اور انخلا کے طریقہ کار کا دفاع کیا۔

العربیہ نیوز کے مطابق سینیٹ کمیٹی کے سامنے دلائل دیتے ہوئے امریکا کے سیکریٹری دفاع لوئیڈ آسٹن کا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی حکومت نے مکمل طور پر فعال اداروں کے ساتھ قوم کو فریب دینے کی کوششوں میں بہت وقت لگایا۔
امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا کہ واشنگٹن کے افغانستان سے انخلا کے فیصلے اور اس کے نتیجے سے دنیا بھر میں امریکا کی ساکھ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا، جب کہ دوسری جانب پینٹاگون کے سربراہ کا کہنا ہے کہ طالبان اور افغانستان کی حکومت کے درمیان امریکا کے کردار سے افغان فوجیوں کا مورال کم ہوا۔

اپنے افتتاحی کلمات میں لوئیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ یہ امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا ایئر لفٹ تھا جسے 17 دنوں میں کیا گیا۔ کیا یہ بہترین تھا؟ یقینا نہیں۔ ہم نے بہت جلد بازی میں لوگوں کو کابل سے نکالا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایک ریاست بنانے میں مدد کی، لیکن ہم قوم کو فریب نہیں دے سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ حقیقت یہ ہے کہ افغان فوج اور ہمارے تربیت یافتہ شراکت دارایک طرف ہوگئے، بہت سی جگہ تو ایک گولی تک نہیں چلائی گئی جس نے ہمیں حیرت میں مبتلا کردیا۔ بصورت دیگر یہ بد نیتی کا دعوی ہوگا۔

چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے بھی براہ راست افغان فورسز اور فوج پر انگلی اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’ میں ان کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کرنا چاہتا اور ان میں سے بہت سے آخر تک لڑے، لیکن ان میں سے اکثریت نے ہتھیار ڈال دیے اور بہت ہی مختصر وقت میں راستے سے ہٹ گئے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب قیادت کی خواہش پر ہوا۔‘

انخلا پر امریکی ساکھ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ملی کا کہنا تھا کہ ’ واشنگٹن دنیا میں آج کہاں کھڑا ہے اس کے لیے ڈیمج( نقصان) واحد لفظ ہے جسے اس بات کو واضح کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘

ملی نے یہ بھی کہا کہ میری رائے تھی کہ صدر جو بائیڈن کو افغانستان میں ڈھائی ہزار فوجی رکھنے کی ضرورت ہے’ مجھے یقین ہے کہ صدر بائیڈن نے یہ تمام تجاویز سنی ہوں گی، ‘ لیکن صدر بائیڈن نے فوجی جرنلز کی تجاویز کو نظرانداز کیا، جب کہ جنرل میکینزی بھی افغانستان میں فوجیوں کی مخصوص تعداد رکھنے کی تجاویز سے متفق تھے۔

یاد رہے کہ اپنے سابقہ انٹرویوز میں صدر بائیڈن کہہ چکے ہین کہ افغانستان سے انخلا کے بارے میں کسی نے کوئی ایسی تجویز نہیں دی تھی جسے میں یاد کرسکوں، لیکن آسٹن کا دعوی ہے کہ صدر نے ان تمام تجاویزات کو سنا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں