امریکی سینیٹ میں طالبان کے حامی اور مددگار ممالک پر پابندی کا بل پیش

بل پر 21 ارکان کے دستخط موجود ہیں، فوٹو: فائل

امریکی سینیٹ میں پیش کیے گئے بل میں طالبان حکومت سمیت ان کی مدد کرنے والے ممالک پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹر سینیٹر جم رِش اور مارکو روبیو نے 20 ارکان کے ساتھ افغانستان کے حوالے سے ’’انسداد دہشت گردی، نگرانی اور احتساب بل‘‘ پیش کیا ہے۔

اس بل میں طالبان حکومت اور ان کے مددگار ممالک پر مختلف پابندیاں عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
ری پبلکن سینیٹرز کے اس بل میں طالبان کی سفارتی، اخلاقی، مالی اور سیاسی مدد دینے والے ممالک اور غیر ریاستی افراد کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بل میں اس بات کا بھی جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے 2001 سے 2020 تک طالبان کی پناہ گاہوں، تربیت ار منصوبہ بندی سمیت کس کس طرح کی مدد کی۔

قانون ماہرین نے اس بل کے تناظر میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان سمیت ایسے تمام ممالک پر پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں جن کے بارے میں امریکا سمجھتا ہے کہ ان ممالک نے طالبان کی کسی بھی شکل میں حمایت، معاونت اور مدد کی ہے۔

بل میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ طالبان کی مدد کرنے والے ممالک کو امریکا کی جانب سے دی جانے والی امداد کا بھی جائزہ لیا جائے۔

تاہم بل کے اسپانسرز کا مؤقف ہے کہ بل کا مقصد جوبائیڈن انتظامیہ کی جلد بازی میں افغانستان سے انخلا جو نہایت تباہ کن ثابت ہوا ہے، سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے جب کہ بل کے ایک حصے کا مقصد طالبان کے خلاف تعزیراتی اقدامات کرنا ہیں۔

علاوہ ازیں یہ بل امریکی محکمہ خارجہ میں ٹاسک فورس قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے جو امریکی شہریوں، قانونی مستقل رہائشیوں اور افغان خصوصی تارکین وطن کو ویزا فراہمی کے عمل کی نگرانی کرے۔

بل میں انسداد دہشت گردی اور طالبان کے قبضے میں لیے گئے امریکی فوج کے جنگی ساز و سامان کی واپسی یا اسے غیر فعال کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں