باقر خانی کیا ہے اور اس کا باقر اور خانی کی محبت کی داستان سے کیا تعلق ہے؟

باقر خانی کا نام ذہن میں آتے ہی سوندھی سوندھی خوشبو اور کرکراتے لچھے دار ٹکیہ کا خیال ذہن میں آتا ہے جس کی اوپری سطح پر چینی اور تل چپے ہوتے ہیں اور چائے کی پیالی میں یہ باقر خانی اس طرح گھل جاتی ہے جیسے کوئی عاشق اپنے محبوب کو دیکھ کر پگھل سا جاتا ہے ۔

باقر خانی کی تیاری
باقر خان دودھ میدے گھی دودھ اور چینی اور تل کی آمیزش سے تیار کی جاتی ہے یہ خستہ اور تہہ دار ہوتی ہے اس کا ذائقہ اور خوشبو اس کو دوسری تمام روٹیوں سے ممتاز کرتی ہے جس کی ہر ہر تہہ منہ میں گھل سی جاتی ہے- یہ پاکستانیوں کا ناشتے میں کھایا جانے والا پسندیدہ کھاجا ہے جو کہ اپنے اثرات کے سبب ذود ہضم اور توانائی بخش ہوتا ہے ان کا سائز ہر علاقے کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے کراچی کے اندر اس کا ذائقہ بڑے سائز کے ایک بسکٹ جیسا ہوتا ہے جب کہ پنجاب اور کے پی کے میں یہ ایک نان کے سائز کی ہوتی ہے

باقر اور خانی کی محبت کی داستان
باقر خانی کھانے والے بہت کم افراد کو اس بات کا پتہ ہوگا کہ اس کو باقر خانی کا یہ نام درحقیقت محبت کی ایک ادھوری کہانی کی یاد میں دیا گیا ہے- اور جس طرح دنیا بھر میں تاج محل محبت کی ایک داستان کے یادگار کے طور پر بنایا گیا اسی طرح باقر خانی بھی درحقیقت آغا باقر خان اور ان کی محبوبہ خانی بیگم کی محبت کی یادگار کے طور پر بنائی گئی تھی۔ آغا باقر خان نواب سراج الدولہ کی فوج کے چٹاگانگ کے فوجی جرنیل تھے اور وہ شاہی رقاصہ خانی بیگم کے عشق میں بری طرح گرفتار ہو گئے تھے-

مگر ان کے ساتھ ساتھ نواب سراج الدولہ کے ایک اور افسر زین الخان بھی خانی بیگم کی محبت میں گرفتار تھے مگر خانی بیگم کی نظر کرم آغا باقر پر تھی اور وہ زین الخان کو پسند نہ کرتی تھیں- لہٰذا انتقام کے طور پر زین الخان نے خانی بیگم کو اغوا کروا لیا جن کو آغا باقر نے اپنی کوششوں سے آزاد کروایا
اس موقع پر زين الخان روپوش ہو گیا اور ہر طرف یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ آغا باقر نے جذبہ رقابت کے تحت زين الخان کو قتل کر دیا ہے- نتیجے کے طور پر بادشاہ نے انہیں شیر کے سامنے ڈال کر موت کی سزا سنا دی مگر آغا باقر اپنی بہادری کے سبب شیر کو مار کر بچ گئے اور فرار ہو گئے- اس موقع پر زین الخان نے ایک بار پھر خانی بیگم کو اغوا کر کے قتل کر ڈالا

اس موقع پر بنگال کے نان بائیوں نے آغا باقر اور خانی بیگم کی یاد گار کے طور پر ان کی یادگار روٹی کو باقر خانی کا نام دے ڈالا اور یہ روٹی بنگال سے نکل کر پورے ہندوستا ن میں باقر خانی کے نام سے ان کی محبت کی یاد گار کے طور پر مشہور ہو گئي اور سب لوگ آج بھی اس روٹی کو باقر خانی کے نام ہی سے یاد کرتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں