ذیابیطس کی ادویات 200 فیصد تک مہنگی ہو گئیں

سال میں ذیابیطس کی ادویات میں 200 روپے سے 1800 روپے تک اضافہ، کمر توڑ مہنگائی سے تنگ عوام مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگے۔ ذیابیطس کا مرض لاحق ہونے کے بعد تمام عمر ذیابیطس کنٹرول کرنے کیلئے مریضوں کو ادویات کا استعمال کرنا پڑتا ہے، محتاط ذرائع کے مطابق پاکستان کی تقریبا 2 کروڑسے زائد آبادی ذیابیطس کے
مرض میں مبتلا ہے، بڑی عمر کے مرد اور خواتین سمیت اب نوجوان اور بچے بھی اس مرض کا شکار ہو رہے ہیں، 2018 سے لے کر اب تک ذیابیطس کنٹرول کی دوائیوں میں تقریبا 2 سو فیصد

سے زائد اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ ہر ماہ تسلسل سے جاری ہے، جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں شوگر کنٹرول کرنے کیلئے ملنے والی انسولین و دیگر دوائیاں میسرہی نہیں جس کی وجہ سے شہری اوپن مارکیٹ سے انسولین اور دیگر ادویات خریدنے پر مجبور ہیں قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے انسولین خریدنا اب عام آدمی کے بس میں نہیں رہا جس کی وجہ سے ذیابیطس کے مریض دل، جگر، آنکھوں اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں اسکے علاوہ بڑی تعداد میں شہریوں کو جسم کے مختلف اعضا سے محروم ہونا پڑرہا ہے۔

شوگر میں مبتلا مریض جہاں پہلے ایک ماہ کی دوائیاں ایک ساتھ خریدتے تھے، وہیں اب بمشکل دو یا تین روز کی دوائی ہی خرید پاتے ہیں، میڈیسن ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے تین سال سے شوگر کی دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ تسلسل سے جاری ہے جس سے انکے کاروبار بھی متاثر ہورہے ہیں۔ حاصل اعدادوشمار کے مطابق 2018 سے اب تک صرف شوگر کے مریضوں کیلئے تیار کردہ مختلف کمپنیوں کی دوائیوں میں 2 سو روپے سے 18 سو روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں