سوال یہ ہے کہ امریکہ طالبان کی حکومت کو کب تسلیم کرے گا ؟

سوال یہ ہے کہ امریکہ طالبان کی حکومت کو کب تسلیم کرے گا ؟

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان مسئلہ پر ہمیشہ ایک ہی موقف رہا کہ طاقت مسئلے کا حل نہیں۔ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی میں کے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہے۔ تُرک ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اگر وہ ہتھیارڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔
کالعدم ٹی ٹی پی سے بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے۔مذاکرات ہونے کے باوجود سکیورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کے حملوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم بات چیت کر رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کوئی نتیجہ نہ نکل سکے، مگر ہم بات کر رہے ہیں۔ افغان طالبان کے اس معاملے میں مدد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بات چیت افغانستان میں جاری ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ وہ مدد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد انہیں معاف کردیں گے جس کے بعد وہ عام شہریوں کی طرح رہ سکیں گے۔ افغانستان کی صورتحال سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس مرتبہ ہم خوفزہ تھے کہ کابل پر قبضی کرتے وقت خونریزی ہو گی۔ لیکن اس حد تک تو غیر متوقع طور پر اختیارات کا انتقال بہت پُر امن ہوا۔ تاہم اب مسئلہ سر پر لٹکتا یہ انسانی بحران ہے۔
کیونکہ افغان حکومت کا اپنے بجٹ کے لیے 70 سے 75 فیصد انحصار بیرونی امداد پر تھاجیسے ہی بیرونی امداد والا جزو نکل جاتا ہے جس کا لوگوں کو خدشہ ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد بیرونی امداد ختم ہو جائے گی ، طویل مدت کے لیے تو شاید طالبان اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے لیکن اگر فوری طور پر انہیں امداد فراہم نہیں کی جاتی تو اس بات کا خطرہ ہے کہ وہاں حکومت گر جائے گی اور افراتفری پھیلے گی جس کے نتیجے میں انسانی بحران جنم لے گا۔


انہوں نے کہا کہ میں فوجی حل میں یقین نہیں رکھتا، میں عراق، افغانستان اور حتٰی کہ اپنے ملک میں طاقت کے استعمال کا مخالف رہا۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی جانوں کی قربانیاں دیں مگر تسلیم نہیں کیا گیا۔ سیاست دان ہونے کے طور پر سیاسی مذاکرات کو ہی آگے کا راستہ سمجھتا ہوں جیسا میں نے افغانستان کے بارے میں بھی کہا تھا۔
ہمیں مسئلے کا حل نکالنا ہو گا ، اور افغانستان کی عوام کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ اس بات کا بہت زیادہ انحصار اس بات پر ہے کہ بین الاقوامی برادری طالبان کی حکومت تسلیم کرتی ہے یا نہیں۔ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ افغانستان نے کبھی بیرونی طاقتوں کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق ہمسایہ ممالک سے بات چیت جاری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ کب طالبان کو تسلیم کرے گا ؟ افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان کی تاریخ کا قریبی تعلق ہے۔


ہم امن کے لیے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں۔ہم افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کی مشاورت سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ ان سے مشورہ کریں گے کہ طالبان کی حکومت کب تسلیم کی جائے ؟ کیونکہ پاکستان اگر تنہا طالبان کو تسلیم کر بھی لے تو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ ترجیحاً تو یہ ہونا چاہئیے کہ امریکہ ، یورپ ، چین اور روس بھی ان کی حکومت کو تسلیم کرے۔
تاہم اگر تمام ہمسائے مل کر ، جو افغانستان میں افراتفری ہونے پر سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ، اگر ہم سب مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیتے ہیں کہ انہیں کب تسلیم کرنا ہے تو ایسا کرنے سے پاکستان کے اکیلے انہیں تسلیم کرنے سے زیادہ اثر پڑے گا۔ جس پر اینکر نے سوال کیا کہ کیا یہ پاکستان کے لیے مشکل صورتحال نہیں ہے کیونکہ جب تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جاتا انسانی بنیادوں پر امداد اور افغانستان کی حکومت کے لیے بیرون ملک منجمد ذخائر، یہ سب تو جاری نہیں ہو سکیں گے۔
جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ طالبان کی حکومت کو کب تسلیم کرے گا ؟ جس پر اینکر نے سوال کیا کہ کیا آپ توقع کر رہے ہیں کہ امریکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لے گا؟

جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکہ کو بھی جلد یا بدیر طالبان حکومت کوتسلیم کرنا ہوگا۔ اس وقت تو جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں ان کے سینیٹ میں جو سماعت ہوئی ، ان کے میڈیا میں دیکھیں ، امریکہ صدمے اور تذبذب کا شکار ہے۔
وہ بیس سال کے بعد طالبان کے حکومت میں آنے سے شدید حیرت کا شکار ہیں۔وہ قربانی کے بکرے تلاش کرنے میں لگے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ صدر بائیڈن کو نشانہ بنانا ناانصافی ہے، کیونکہ وہ اس کے سوا کیا کر سکتے تھے ؟ انخلا کی تاریخ جب بھی دی گئی ہوتی، اور اگر اس تاریخ سے دو ہفتے قبل افغان فوج ہتھیار ڈال دیتی اور افغان صدر ملک سے فرار ہو جاتے تو تب بھی یہی کچھ پونا تھا۔
بائیڈن سمیت سبھی کے لیے یہ حیران کُن تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ انہیں نشانہ بنایا جانا ناانصافی ہے، وہ اپنی حیرت کو چُھپانے کے لیے قربانی کے بکرے تلاش کر رہے ہیں اور بد قسمتی سے پاکستان اُن میں سے ایک ہے۔ اس وجہ سے وہ منطقی ذہنیت سے نہیں سوچ رہے کہ آگے کیسے بڑھا جائے۔ اگر امریکہ ان کے ذخائر کو غیر منجمد نہیں کرتا اور افغان حکومت گر جاتی ہے تو افراتفری پیدا ہوگی، افغانستان میں افراتفری کا عالم ہو گا تو نقصان افغان عوام کا ہی ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اگلے سال تک پچانوے فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔ اس لیے اس مسئلے کا حل نکالنا ہو گا اور جلد یا بدیر افغان عوام کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا افغانستان کی عوام کے لیے بحران دن بدن گہرا سے گہرا ہوتا چلا جائے گا۔ اینکر نے سوال کیا کہ آپ نے قربانی کے بکرے کی بات کی، امریکی کانگریس کے اجلاسوں میں امریکی سینیٹرز اور قانون سازوں نے فوج کی اعلیٰ کمان سے سوالات کیے، انہوں نے ساتھ ہی ساتھ بائیڈن انتظامیہ کے لوگوں نے بار بار پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا،وہ پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز دے رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ طالبان کی حکومت لانے میں پاکستان شریک کار ہے۔


جس پر وزیراعظم عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم جیسے لوگ جو افغانستان کی تاریخ سے آگاہ ہیں۔ افغانستان کی تاریخ کا پاکستان کی تاریخ سے قریبی تعلق ہے جو کہ اس وقت ہندوستان کا حصہ تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری سرحد جو افغانستان سے ملتی ہے، اگر آپ اس کی اور پشتونوں کی تاریخ سے آگاہ ہوں،کیونکہ افغانستان کی تقریباً آدھی آبادی پشتونوں کی ہے،ان سے دو گنا زیادہ پشتون پاکستان میں آباد ہیں۔
اور افغان سرحد کے دونوں جانب پشتون قبائل قیام پذیر ہیں۔ اگر آپ تاریخ سے آگاہ ہوں، تو کوئی بھی جو تاریخ سے آگاہ ہے وہ جانتا تھا کہ ایسا ہو گا۔ انہوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ میرے جیسے لوگ جو تاریخ سے آگاہ ہیں، میں نے اپنی طرف کے پشتون قبائل اور علاقوں کے اوپر ایک کتاب بھی لکھی ہوئی ہے، ہم جانتے تھے کہ ایسا ہی ہو گا ، ہمیں معلوم تھا کہ آخر کار مسئلہ جنگ سے حل نہیں ہو گا کیونکہ وہاں کی عوام بیرونی طاقتوں کا تسلط تسلیم نہیں کرتی۔


وہ غیر ملکیوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں خاص طور پر غیر مسلم غیر ملکیوں کے خلاف۔ ہو سکتا ہے کہ پشتون قبائل آپس میں لڑ رہے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی غیر ملکی آتا ہے وہ متحد ہو جاتے ہیں۔ پشتون روایت میں انتقام عام بات ہے ،کوئی ان کے گھرمیں گھس کر مارےتو وہ ردعمل تودیں گے۔ اگر ان کا کوئی عزیز قتل ہو جائے تو وہ بدلہ لینے کے لیے مسلح افراد کا ساتھ دیں گے۔
یہی کچھ سرحد کے اس طرف ہوا۔ جب ہم نے امریکہ کا اتحادی ہونے کا فیصلہ کیا ، چونکہ طالبان پشتون تھے تو طالبان کے ساتھ ہمدردیاں ان کے مذہبی نظریات کی وجہ نہیں تھیں، بلکہ ان کی پشتون قومیت کی وجہ سے تھیں،سرحد کی ہماری جانب ہم نے پہلی مرتبہ پاکستانی طالبان دیکھے۔ انہوں نے ہمیں امریکیوں کا ساتھی تصور کر لیا اور ہم پر حملے شروع کر دئے یہی لوگ ٹی ٹی پی کہلائے یعنی پاکستانی طالبان ۔


سرحد کی دوسری جانب بھی یہی کچھ ہوا۔ جتنا اجتماعی نقصان ہوا، جتنے فضائی یا ڈرون حملے ہوئے، جتنے زیادہ رات کی تاریکی میں حملے ہوئے، اتنا ہی لوگوں نے بے بسی محسوس کی اور اتنے ہی زیادہ لوگ مارے گئے۔ افغانستان میں پشتون بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ مسلح افراد کی تعداد بڑھتی گئی اور طالبان کی تحریک وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زور پکڑتی گئی۔
2008ء میں میں نے امریکہ کے دورے کے دوران تھنک ٹینکوں سے خطاب کیا۔ میں جوبائیڈن سے ملا ، جو سینیٹر تھے، میں جان کیری سے ملا جو سینیٹر تھے، میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن میں نے محسوس کیا کہ انہیں کچھ خبر نہیں۔ امریکی عوام افغانستان کی صورتحال کے بارے میں مکمل بے خبر تھے۔ اسی لیے انہیں حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا، ان کا خیال تھا کہ انہوں نے وہاں ایک جمہوری حکومت قائم کر دی ہے، انہوں نے افغان خواتین کو آزادی دلوا دی ہے، امریکہ میں لوگوں کا یہ تصور تھا ۔


اتنی کم امریکی اموات ہوئیں افغانستان اصل میں کیسا تھا وہ ان کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ جن اچانک یہ سب ہوا تو انہیں حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ اسی لیے آپ نے سینیٹ میں دیکھا وہ کس قسم کے سوالات کر رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے تُرک ٹی وی کو انٹرویو دیا۔ دوران انٹرویو ترک اینکر نے سوال کیا کہ آپ نے بڑی رکاوٹوں کی بات کی ، ڈالر 170 کا ہو گیا ہے ، ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 127 روپے ہے جو آپ کی حکومت نے ابھی اضافہ کیا،کیا پاکستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے ؟ جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صرف پاکستان ہی نہیں ، کورونا وبا نے دنیا بھر میں اشیا کی رسد کو متاثر کیا ہے۔
دنیا بھر میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

دراصل دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان ابھی بھی سستا ہے۔ جس پر اینکر نے کہا کہ کیا اس پر پاکستان متاثر ہو رہا ہے ؟ عمران خا ن نے اینکر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک کی طرح ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت کو دیکھیں، وہاں غربت میں بے پناہ اضافہ ہو اہے۔
اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان بھی متاثر ہو اہے۔ دراصل پاکستان میں ہونے والی مہنگائی درآمد کی جانے والی اشیا کی وجہ سے ہے۔ گذشتہ پانچ ماہ میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں اسی فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان خوردنی تیل درآمد کرتا ہے اور بد قسمتی سے ہمیں گندم بھی درآمد کرنا پڑی، گندم کی قیمت میں اضافہ ہوا اور دراصل تمام اشیا کی قیمتیں بڑھیں۔
پام آئل جو پاکستان میں ستر فیصد استعمال کیا جاتا ہے درآمد ہوتا ہے۔ اس کی قیمت بھی دوگنی ہو گئی ہے ،

ہماری افراط زر درآمد شدہ ہیں۔ جس سے یقیناً لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک عارضی صورتحال ہے۔ جس پر اینکر نے سوال کیا کہ اپوزیشن اس سے اتفاق نہیں کرتی اس کا کہنا ہے کہ حکومت نا اہل ہے اور ایک باقاعدہ مالیاتی پالیسی بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ آپ نے کئی مرتبہ وزیر خزانہ تبدیل کیا تھا۔
آپ نے وزیر خزانہ اور وزارت خزانہ کے انچارج کئی مرتبہ تبدیل کیے ہیں، جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن اس کے علاوہ کیا کہہ سکتی ہے ؟ وہ مختلف قسم کے لوگوں کا ایک مجموعہ ہےجو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ان میں تقسیم بہت گہری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے خلاف کرپشن کے بڑے الزامات ہیں۔ حقیقت میں یہ ملک ارتقا کے مختلف مرحلے میں ہوتا، اگر ان دو خاندانوں نے اس ملک کو تیس سال تک نہ لُوٹا ہوتا، یہ سیاسی جماعتیں نہیں ہیں ، بلکہ فیملی لمیٹڈ کمپنیاں ہیں، یہ دو خاندان ہیں جنہوں نے ملک لوٹا ہے۔


اس وقت وہ ابتری کا شکار ہیں، اس لیے وہ کسی بھی بات پر پراپیگنڈہ کر سکتے ہیں۔ ان کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ اس ملک نے کورونا وبا کا کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں بہتر انداز میں مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان چار پانچ ممالک میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف اپنے لوگوں کو کورونا وبا سے بچایا بلکہ انہیں معاشی بدحالی سے بھی محفوظ رکھا۔
جب آپ اپنی معیشت بند کر دیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر غربت بڑھتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ان چند ممالک میں سے ہیں، جنہوں نے ان دونوں چیزوں کا خیال رکھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم اس معاملے میں کامیاب رہے۔ اپوزیشن کا کام ہی یہی ہے کہ مختلف ایشوز کو سامنے لائیں۔ میرے خیال میں اس وقت انہیں مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں