قدیم انسان اس بھیانک پرندے کے انڈے کھاتا تھا

کسوری کہلانے والا یہ پرندہ اپنے لمبے، مضبوط اور خنجر جیسے نوکیلے پنجوں سے کھال ادھیڑ سکتا ہے۔ (تصاویر: متفرق ویب سائٹس)

تصویر میں دکھائی دینے والے بھیانک پرندے کو ’’کسوری‘‘ یا ’’کیسووری‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ شتر مرغ کا قریبی رشتہ دار ہے جو شمالی آسٹریلیا، نیو گنی اور دوسرے قریبی جزیروں پر پایا جاتا ہے۔

اب انکشاف ہوا ہے کہ آج سے 18,000 سال پہلے کا قدیم انسان نہ صرف اس دیوقامت پرندے کو مرغیوں کی طرح پالتا تھا بلکہ اس کے انڈے اور گوشت کھایا بھی کرتا تھا۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے یہ دریافت کسوری کے اُن ہزاروں قدیم انڈوں کے چھلکوں کا تجزیہ کرنے کے بعد کی ہے جو پاپوا نیوگنی کے پہاڑی جنگلات سے پچھلے کئی سال میں دریافت ہوئے ہیں اور نیوزی لینڈ کے مختلف عجائب گھروں میں رکھے گئے ہیں۔

شتر مرغ کی طرح کسوری کی اونچائی بھی 6 فٹ تک ہوتی ہے، اس کے انڈے سبز رنگ کے ہوتے ہیں جن کی اوسط لمبائی 14 سینٹی میٹر اور چوڑائی 9 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ ان کے مقابلے میں صرف شتر مرغ کے انڈے تھوڑے سے بڑے ہوتے ہیں۔

اگرچہ یہ پرواز تو نہیں کرسکتا لیکن اس کی ٹانگیں بہت مضبوط ہوتی ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے یہ بہت تیزی سے دوڑ سکتا ہے۔

عام حالات میں یہ خاموش اور شرمیلا پرندہ ہے لیکن اگر اسے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہو تو پھر یہ اپنے سخت اور خنجر جیسے پنجوں سے دشمن کی کھال تک ادھیڑ سکتا ہے۔

ماہرین کےلیے یہ بات معما بنی ہوئی ہے کہ قدیم انسان اس خوفناک پرندے کو کس طرح پالتا ہوگا کیونکہ آج کے زمانے میں جدید سہولیات کے باوجود بھی اسے قابو کرنا بے حد مشکل ہے۔

خصوصی آلات اور ہتھیاروں کے بغیر کسوری کا شکار کرنا یا اسے جکڑ کر کسی مخصوص احاطے میں بند کرنا یقیناً قدیم انسان کےلیے انتہائی مشکل اور جان جوکھم کا کام رہا ہوگا۔

جن جگہوں سے کسوری کے ان قدیم انڈوں کے چھلکے ملے ہیں، ان کے جائزے اور آس پاس سے ملنے والی دوسری انسانی و حیوانی باقیات سے یہ بات تقریباً طے شدہ ہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے ان مقامات پر کسوری پرندوں کو پالا جاتا تھا۔

بہت ممکن ہے کہ قدیم انسان، جسے آج ہم وحشی قرار دیتے ہیں، آج سے ہزاروں سال پہلے بھی ہمارے عام خیال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں