ہم بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں، وزیر اعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ترک ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ ہم بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں، اور ان میں سے جو گروپس مفاہمت کے خواہش مند ہیں، ہم ان سے سیاسی مفاہمت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے سقوطِ کابل کے بعد
پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طالبان کو فوری طور پر عالمی امداد فراہم نہیں کی گئی تو خطرہ

ہے وہاں تشکیل پانے والی عبوری حکومت گر جائے گی جس کے نتیجے میں افرا تفری پیدا ہوگی اور انسانی بحران جنم لے گا، پاکستان نے تنہا طالبان کو قبول کیا تو فرق نہیں پڑے گا،امریکا کو طالبان کی حکومت جلد یا بدیر تسلیم کرنی ہوگی،کابل میں طالبان کی آمد پاکستان کی وجہ سے نہیں تھی،امریکا قربانی کا بکرا ڈھونڈ رہا ہے،امریکی صدر جوبائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنانا افسوس کی بات ہے،امریکا سے مسلسل رابطے میں ہیں،امریکی انخلا پر افغان آرمی کی پسپائی سے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا،امریکی صدر اس وقت شدید دباؤ میں ہیں۔

ترک میڈیا ٹی آر ٹی ورلڈ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اب افغانستان کا مسئلہ لٹکنا دراصل انسانی بحران کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ افغان حکومت اپنے بجٹ کے لیے 75 فیصد تک بیرونی امدا پر انحصار کرتی تھی۔انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو خطرہ ہے کہ طالبان کے بعد بیرونی امداد کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔وزیر اعظم عمران خان
نے کہا کہ طویل مدت کے لیے تو شاید طالبان اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں گے لیکن اگر انہیں فوری طور پر امداد فراہم نہیں کی گئی تو خطرہ ہے کہ وہاں تشکیل پانے والی عبوری حکومت گر جائے گی جس کے نتیجے میں افرا تفری پیدا ہوگی اور انسانی بحران جنم لے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں