وزیر دفاع پرویز خٹک نے کالعدم ٹی ٹی پی سے خفیہ مذاکرات کی تردید کر دی

وزیر دفاع پرویز خٹک نے کالعدم ٹی ٹی پی سے خفیہ مذاکرات کی تردید کر دی

’وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے افغانستان یا پاکستان میں کوئی خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔افغانستان حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔اتوار کو نوشہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ افغانستان کو خطے کے تمام ممالک کی مشاورت کے بعد ہی تسلیم کیا جائے گا۔
افغانستان کے امن کے قیام کے لیے پوری دنیا کو تعاون کرنا ہو گا۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کہاتھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اگر ہتھیار ڈال دے تو انہیں معاف کردیں گے،انہوں نے ترک ٹی وی چینل کو اپنے اںٹرویو میں کہا کہ ہمیشہ کہتا ہوں آگے بڑھنے کیلئے مذاکرات ضروری ہیں، طالبان حکومت مذاکرات میں تعاون کررہی ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ گروپس کیساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی اگر ہتھیارڈال دے تو ان کو معاف کردیں گے، عسکری حل پر نہیں بات چیت پریقین رکھتا ہوں۔

درحقیقت پاکستان میں طالبان کے کئی گروپس امن اور مصالحت کیلئے میری حکومت کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں اور ہم ان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ مختلف گروپس نے ٹی ٹی پی بنائی ہے اور ہم ان میں سے کئی کے ساتھ مذاکرت کر رہے ہیں۔ اس سوال پر کیا افغان طالبان اس میں مدد کرہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ چونکہ مذاکرات افغانستان میں ہورہے ہیں تو اس تناظر میں ہاں وہ مدد کررہے ہیں۔
جب اس سے سوال ہوا کہ مذاکرات اس لئے ہورہے ہیں کہ ٹی ٹی پی اسلحہ پھینک دے تو وزیر اعظم نے کہا ہاں تاکہ وہ معاشرے کا حصہ بنے۔ جب وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا ان مذاکرات کے نتیجے میں کوئی معاہدہ ہوسکتا ہے تو عمران خان نے کہا کہ ہاں کیونکہ وہ فوجی حل پر یقین نہیں رکھتے، میں فوجی حل کے خلاف ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں