محفوظ پناہ گاہوں میں 60 ٹریلین ڈالرز چھپائے گئے ہیں، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امیر ممالک ماحول کے لیے مالی معاونت میں اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کورونا ویکسین کے حوالے سے عدم مساوات کو ختم کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ لیڈرز سمٹ سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انتہائی اہم ڈائیلاگ میں شرکت پر خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہرسال ترقی پذیر ممالک سے
ایک ٹریلین ڈالرز منتقل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محفوظ پناہ گاہوں میں 60 ٹریلین ڈالرز چھپائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں چار امور

پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں میں سہولت کے لیے مہم چلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کے حوالے سے عدم مساوات کو ختم کرنا ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وبا کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں میں سہولت کورونا وبا کے خاتمے تک جاری رہنی چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشئرز پگھلنے کی شرح میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب ممالک سے امیر ممالک میں رقوم کی غیر قانونی منتقلی اہم مسئلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس لوٹ مار کی وجہ ترقی پذیر ممالک کی بدعنوان اشرافیہ ہے۔ انہوں ںے واضح کیا کہ اس کور وکنے کا واحد طریقہ فیکٹ آئی کی پیش کردہ سفارشات پر عملدرآمد میں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ رقوم کی غیر قانونی منتقلی سے ان ممالک کی کرنسی کی قدر گر جاتی ہے اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت امیر ممالک ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ تیزی سے ویکسین لگا رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے امیر ممالک کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک اپنی بقا کے لیے گلیشیئرز سے آنے والے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہامیر ممالک ماحول کے لیے مالی معاونت میں حصہ ڈالیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں