کورونا کے خاتمے تک ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں سہولت جاری رکھی جائے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے عالمی اداروں اور ممالک پر زور دیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے تک ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں دی گئی سہولت جاری رکھی جائے،پہلے نمبر پر کورونا ویکسین کی تقسیم ہے، بدقسمتی سے امیر ممالک اپنے شہریوں کو ترقی پذیر ملکوں کے مقابلے میں 20 گنا تیزی سے ویکسین لگا رہے ہیں،
اس عدم مساوات کو ختم کرنا ہوگا۔اقوام متحدہ کے تحت ٹریڈ ڈیویلپمنٹ پر عالمی رہنماؤں کی کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں چار مسائل

پر بات کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پہلے نمبر پر کورونا ویکسین کی تقسیم ہے، بدقسمتی سے امیر ممالک اپنے شہریوں کو ترقی پذیر ملکوں کے مقابلے میں 20 گنا تیزی سے ویکسین لگا رہے ہیں، اس عدم مساوات کو ختم کرنا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ میں اجلاس کے صدر سے کہوں گا کہ ویکسین کی مساوی تقسیم یقینی بنانے کے لیے اپنے طور پر بھرپور کوشش کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ دوسرا قرضوں میں سہولت دی جائے، میں نے ترقی پذیر ملکوں کیلئے قرضوں میں سہولت کیلئے مہم چلائی کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں کورونا کی وجہ سے بدشیں عائد ہونے پر بلاتفریق ہر چیز متاثر ہوئی۔

انہوںنے کہاکہ میری تجویز ہوگی کہ قرضوں میں سہولت اس وبا کے خاتمے تک جاری رہنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میرا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ماحول کے لیے مالی معاونت ہونی چاہیے، ترقی پذیر ملکوں خاص طور پر چھوٹے جزیرے نما گروپ اور پاکستان جیسے ممالک کے حوالے سے بات کروں گا، جو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے امیر ملکوں کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہیں۔عمران خان نے کہا کہ چھوٹے جزیرہ اس لیے متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ سمندر کی سطح بلند ہورہی ہے جبکہ پاکستان جیسے ممالک اپنی بقا کے لیے پانی کا انحصار گلیشیئرز پر کر تے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب سے موسم کی تپش میں اضافہ ہوا ہے گلیشئرز تیزی سے پگھلنے لگی ہیں، تو میں درخواست کروں گاکہ امیر ممالک ماحولیات کے لیے مالی تعاون میں حصہ ڈالیں۔

اجلاس کے صدر کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ چوتھا نکتہ میرے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات ہیں، یہ غریب ممالک سے امیر ملکوں کے دارالحکومتوں میں ٹیکس ہیونز یعنی محفوظ پناگاہوں میں پیسوں کی غیرقانونی منتقلی ہے۔انہوں نے کہا کہ فیکٹ آئی پینل کے مطابق ان ٹیکس ہیونز میں 7 کھرب ڈالر چھپائے گئے ہیں اور ہر سال ترقی پذیر ممالک سے ایک کھرب ڈالر ان ٹیکس ہیونز میں منتقل ہو رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس لوٹ مار کی وجہ ترقی پذیر ملکوں کی بدعنوانی حکمران اشرافیہ ہے، یہ بہت بڑا بحران ہے اور آنے والے برسوں میں حالات مزید خراب ہوجائیں گے، اس کو روکنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس کو روکنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ جو سفارشات فیکٹ آئی پینل نے پیش کی ہیں، ان پر عمل کیا جائے، امیرممالک جو اس حوالے سے کچھ کرسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان میں ایسا کچھ کرنے کی کوئی تحریک نہیں ہے۔

انہوںنے کہاکہ اس عمل کے باعث ترقی پذیر دنیا میں تباہ کن حالات جنم لے رہے ہیں، صرف اس لیے نہیں کہ ترقی پر استعمال ہونے والی رقم لوٹ مار کی نذر ہوجاتی ہے بلکہ جب پیسہ باہر جاتا ہے تو ان ممالک کی کرنسی گر جاتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ اس کے نتیجے میں امیرممالک بھی متاثر ہوں گے کیونکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ معاشی مشکلات سے دوچار افراد امیر ممالک جانے کے لیے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اس عدم مساوات جس کی وجہ سے امیر اور غریب ملکوں کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے اور غریب ملکوں کے اندر بھی امیر اور غریب کے درمیا فرق میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو امیرممالک کو بڑی تعداد میں ہونے والی نقل مکانی روکنے کے لیے دیواریں تعمیر کرنی پڑیں گی۔وزیراعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کے لیے کوشش کی جائے تاکہ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ہونے والی بڑی ناانصافی کا خاتمہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں