گھی کی قیمت میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہو گیا

گھی کی قیمت میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کے دعووں کے برعکس درجہ دوئم گھی کی قیمت میں 5 روپے کلو جبکہ برانڈ گھی کی قیمت میں 11 روپے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ درجہ دوئم گھی کی قیمت 5 روپے کلو اضافے کے بعد 305 روپے سے بڑھ کر 310 روپے کلو ہوگئی جبکہ برانڈ گھی کی قیمت 340 روپے تک جا پہنچی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ 2 روز کے دوران 16کلو گھی کے کنستر کی قیمت میں 100روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق 100روپے اضافے سے درجہ اول گھی کے کنستر کی قیمت 5150روپے سے بڑھ کر 5250روپے اور درجہ سوم گھی کے کنستر کی قیمت 4950روپے سے بڑھ کر 5050روپے ہو گئی ۔ گھی کی قیمتوں میں ایسے وقت میں اضافہ ہوا جب حکومت بار بار دعوے کر رہی ہے کہ گھی کی فی کلو قیمت میں 50 روپے کی کمی لائی جائے گی۔

کچھ روز قبل وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات فرخ حبیب نے دعویٰ کیا تھا کہ کورونا کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اس کے باوجود گھی کی قیمت میں 40 سے50 روپے تک کمی لائیں گے، جبکہ آٹا، چینی، دال اور گھی پر بھی غریبوں کو براہ راست سبسڈی دیں گے۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ پرائس کنٹرول مانیٹرنگ کمیٹی کے ایک اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے اعلان کیا تھا کہ گھی کی فی کلو قیمت میں 50 روپے کمی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، آٹے کی فی کلو قیمت 55 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے امپورٹ کی گئی چینی کی قیمت بھی 90 روپے ہو گی۔
گھی اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے بھی گزشتہ دنوں جاری بیان میں وضاحت کی کہ اس وقت عالمی سطح پر مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، اور اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں