ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ

ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1.21 فیصد جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں اضافہ 12.94 ہوگیا . فوٹو : فائل

نئے مالی سال 2021-22ء کے تیسرے ماہ (ستمبر) کا آغاز بھی مہنگائی کی شرح میں اضافے سے ہوا تھا جو پہلے دو ہفتے جاری رہا البتہ تیسرے ہفتے 0.07 کی معمولی شرح سے مہنگائی میں کمی ہوئی تھی اور 30 ستمبر کو ختم ہونے والے ستمبر کے آخری ہفتے 0.10 فیصد کی معمولی شرح سے کمی واقع ہوئی تھی تاہم اکتوبر کے پہلے ہفتے ہونے والی مہنگائی نے ایک ہی جھٹکے میں نہ صرف یہ کسرپوری کردی جبکہ اس سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھنا شروع کردیا۔

وفاقی ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 8 اکتوبر کو ختم ہونے والے حالیہ ہفتے کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح میں 1.21 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 12.94 فیصد ہوگئی۔ حالیہ ہفتے ملک میں 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ،8 سستی ہوئیں جبکہ 21 کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔
جن 22 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں چکن، چاول، چینی، آلو، ٹماٹر، گڑ، لہسن، مٹن، ویجی ٹیبل گھی، آٹا، چائے کی پتی، صابن، سرسوں کا تیل، کھلا تازہ دودھ ایل پی جی اور پٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر اشیائے ضروریہ شامل ہیں۔

اسی طرح جن 8 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ان میں انڈے، پیاز، سرخ مرچ پاؤڈر، دال مسور، دال ماش، دال چنا اور دال مونگ پر مشتمل اشیاء شامل ہیں البتہ 21 اشیائے ضرویہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔

ہفتہ وار بنیادوں پر گزشتہ ہفتے کے دوران چکن 17.12 فیصد، ایل پی جی 7.73 فیصد، پٹرول 3.20 فیصد، ڈیزل 1.59 فیصد، لہسن 3.70 فیصد، آٹا 1.97، ٹماٹر1.83 فیصد، آلو 5.89 فیصد، سرسوں کا تیل 1.60 فیصد اور واشنگ سوپ 1.94 فیصد مہنگے ہوگئے جب کہ انڈے2.66 فیصد، دال مونگ 123 فیصد، پیاز1.62فیصد، سرخ مرچ پاوڈر 1.12فیصد سستے ہوئے۔

اس ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ (ایس پی آئی) کے لحاظ سے گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ملک میں مہنگائی کی شرح 12.94 فیصد رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں