36 سال بعد طلاق کا فیصلہ کیا، یہ حق میرے ابا نے دیا تھا کہ میری بیٹی جب چاہے طلاق دے سکے۔۔۔ بشریٰ انصاری اپنی طلاق سے متعلق کچھ حقائق بتاتے ہوئے

پاکستان کی شہرہ آفاق اداکارہ، رائٹر اور گلوکارہ بشریٰ انصاری کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ شاندار اداکاری کا مظاہرہ کرنے والی بشریٰ انصاری سوشل میڈیا پر کافی ایکٹوو دکھائی دیتی ہیں۔ گزشتہ سال ان سے متعلق ایک بڑی خبر آئی کہ ان کی اور ان کے شوہر کی طلاق ہوگئی ہے۔

اداکارہ کے مداح اس خبر سے کافی متاثر ہوئے، کیونکہ ان کے مطابق دونوں کی شادی کافی عرصہ کی تھی اور ان میں علیحدگی نہیں ہونی چاہیے تھی۔

لیکن بشریٰ انصاری کے مطابق ان کی اور ان کے شوہر کی زیادہ نہیں بن رہی تھی، اسی لیے دونوں نے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لی۔

بشریٰ انصاری نے اس سے متعلق اپنے کئی انٹرویوز میں بات کی لیکن حال ہی میں ان کا ایک انٹرویو وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نے اپنی طلاق سے متعلق کچھ حقائق پر بات کی۔

اداکارہ بشریٰ انصاری نے کہا کہ ”طلاق ایک حل تو ہے، آپ کی زندگی کے خراب فیز سے نکلنے کا۔ میں نے یہ فیصلہ شادی کے 36 سال بعد کیا، میرے پاس طلاق کا حق تھا اور یہ حق میرے ابا نے دیا تھا کہ میری بیٹی جب چاہے طلاق دے سکے”۔

بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ ”میرے پاس ایک اور حیثیت ہے کہ میں وہ نہیں ہوں جسے کسی نے طلاق دی بلکہ میں نے اسے طلاق دی لیکن اس میں کسی کی بے عزتی والی بات نہیں ہے”۔

اداکارہ نے انکشاف کیا کہ ”جب ہمیں لگا کہ آپس کے تعلقات ہمارے درست نہیں، تب تک بچے بڑے ہوگئے تھے اور اسکول جا رہے تھے”۔

انہوں نے کہا کہ ”جب بھی میں اپنی شادی شدہ زندگی کے دوران پریشان ہوئی تو صرف یہ ہی سوچا کہ آج میں جس صورتحال میں ہوں یہ زیادہ بہتر ہے یا جو اس کے بعد ہے وہ زیادہ ٹھیک ہو گی؟ اور اگر اس سے بہتر نہیں تو پھر یہ ہی ٹھیک ہے”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں