84

He was one year old when his father passed away.

یتیمی ایک ایسا کرب ہے جو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس طوفان سے گزرا ہو۔۔۔ خاص طور پر یہ کرب کہ آپ نے وہ لمس بہت چھوٹی عمر میں ہی کھو دیا جس کے سہارے آپ کو اپنی جوانی اور کامیابی کی منازل طے کر نی تھیں۔۔۔انڈسٹری میں ایسے کئی کامیاب نام ہیں جو اپنی زندگی میں کامیابیاں تو دیکھتے رہے لیکن ایک کسک ان کے اندر ہمیشہ زندہ رہی ، اور وہ تھی چھوٹی عمر میں باپ کو کھو دینا۔۔۔

شان شاہد

لالی وڈ کی اردو اور پنجابی فلموں کے ہیرو شان شاہد جو نا صرف اپنی اداکاری کے بل پر اپنی پہچان منوا چکے ہیں بلکہ ان کی حب الوطنی نے بھی اپنی مثال قائم کی۔۔۔وہ مشہور ڈائیریکٹر ریاض شاہد کے سب سے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔۔۔ریاض شاہد نے اپنے دور کی مشہور ترین فلم ’’زرقا‘‘ بھی بنائی تھی۔۔۔زرقا شاہد کی بہن کا نام رکھا گیا۔۔۔ شان کی والدہ نیلو بیگم ایک مسیحی خاتون تھیں لیکن انہوں نے زندگی میں

کچھ ایسے کام کئے کہ ریاض شاہد کی نظر ان پر ٹہر گئی۔۔۔انہوں نے نیلو کو مسلمان کرکے ان سے شادی کی اور تین بچے ہوئے جن میں ایک بڑا بیٹا، پھر بیٹی اور پھر سب سے چھوٹے ارمغان شاہد پیدا ہوئے۔۔ ابھی ارمغان یعنی شان محض ایک سال کے ہی تھے کہ ان کے والد دنیا سے چلے گئے۔۔بچوں کی پرورش کرنے کے لئے نیلو نے انڈسٹری میں دوبارہ قدم رکھا اور شادی سے پہلے آخری فلم زرقا کرنے کے بعد شوہر کے انتقال کے بعد ہی واپس آئیں۔۔۔شان آج بھی اپنے والد کی کمی کو اپنے اندر محسوس کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے تنہا اپنی ماں کو محنت اور صبر سے وقت گزارتے دیکھا۔

فیصل قریشی

اس وقت ٹی وی اسکرین کا ہر کامیاب ڈرامہ فیصل قریشی کے نام سے جڑا ہے۔۔۔ فیصل قریشی کی کامیابی تو ان کے ساتھ ہے ہی لیکن ایک سچ اور بھی ہے کہ فیصل کو والدہ اور نانی نے زیادہ پالا۔۔۔کیونکہ ابھی وہ نو عمری میں ہی تھے کہ ان کے والد بہت بیمار ہوئے اور دنیا سے چلے گئے۔۔۔ فیصل وہ وقت بھلا نہیں پاتے جب والد کو بچانے کی ہر ممکن کوشش میں ان کے پاس سے سب کچھ چلا گیا تھا۔۔۔لیکن پھر بھی والد نہیں بچ پائے۔۔۔وہ ایک ایسا خلا تھا جسے افشاں قریشی چاہ کے بھی پورا نا کر پائیں۔۔۔ انہوں نے ہر ممکن اپنے بیٹے کو آگے رکھا، اس کو زندگی کے کئی ڈھنگ سکھائے لیکن سچ تو یہ ہے کہ فیصل اپنے باپ کے جانے کو آج بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں اور اکثر اس بات کا اظہار کر بھی دیتے ہیں۔۔۔

آغا علی اور علی سکندر

اداکار آغا سکند کے دو بیٹے آغا علی اور علی سکندر دونوں ہی انڈسٹری کا حصہ ہیں۔۔ان میں زیادہ شہرت آغا علی کے حصے میں آئی لیکن سچ تو یہ ہے کہ یتیمی کی تکلیف کو بھی زیادہ آغا نے ہی محسوس کیا۔۔۔ وہ دوسرے نمبر پر تھے اور علی بڑے تھے۔۔۔ ان سے چھوٹی ایک بہن بھی تھی۔۔۔جب ان کے والد دنیا سے گئے تو آغا علی کے حساس دماغ نے اس یاد کو اپنے اندر سمو لیا۔۔۔ وہ یہ صدمہ آج بھی ذہنی طور پر نا تو بھلا پائے اور نا ہی ان کی شخصیت میں سے یہ خلا کبھی پر ہوا۔۔۔آغا علی نے بچپن میں کئی بار ذہنی اذیت کا سامنا کیا اپنی یتیمی کے حوالے سے۔۔۔ دوست نہیں بناتے تھے اور غصہ بہت آگیا تھا۔۔۔آج وہ کامیاب ہیں لیکن والد کی کمی کو دل میں آج بھی اسی شدت سے محسوس کرتے ہیں

فرقان قریشی

اداکار فرقان قریشی نے بتایا کہ جب وہ کالج میں ہی تھے تو ان کے والد اس دنیا سے چلے گئے۔۔۔ جب وہ گئے تو بینک کی بڑی پوسٹ پر ہونے کے باوجود وہ خالی ہاتھ تھے۔۔۔ فرقان نے اپنی بہنوں کے سہارے گھر چلایا لیکن وہ خود نوکری کی تلاش میں پھرتے رہے۔۔۔ یتیمی نے ان سے ان کا بچپنا چھین لیا تھا۔۔۔ ذمہ داریوں نے انہیں وقت سے پہلے بڑا کر دیا تھا۔۔۔ لیکن نوکری اور شوبز میں کامیابی کے اس سفر نے انہیں بہت سال آگے دھکیل دیا۔۔۔ آج ان کے پاس بھی شہرت اور نام ، پیسہ موجود ہے لیکن یتیمی کا درد نہیں جاتا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں