97

If you do well, you’ll be rewarded, for buying a bus ticket for a stranger who turned a young child into a millionaire.

بچے معصوم ہوتے ہیں ان کی معصومیت کی وجہ سے ہی ان کو فرشتہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا کسی بھی قومیت سے ہو مگر انکی فطرت میں نیکی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ آج ہم آپ کے ساتھ شئير کریں گے-

یہ کہانی سیندرا اینڈرسن نامی ایک خاتون کی ہے جو کہ ایک بچی ایوا کی ماں بھی ہیں مگر ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان ازدواجی تعلقات بہت خراب تھے۔ اس میں بڑا کردار ان کے شوہر کا تھا جو کہ غصے کے عالم میں نہ صرف گالم گلوچ کرتا تھا بلکہ سیندرا کے ساتھ مار پیٹ کرنے سے بھی نہیں چوکتا تھا-

سیندرا نے اس شخص سے شادی اپنے خاندان کی مخالفت کے باوجود کی تھی اس وجہ سے اب اس ظلم و ستم کے باوجود اپنی ماں کے واپس بھی نہیں جا سکتی تھیں۔ اس لیے سیندرا نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ دن کے لیے اپنی ایک دوست کے گھر منتقل ہو جائيں اور موقع ملنے پر اپنی ماں کو سارے حالات بتا دیں-

مگر بد قسمتی سے یہ موقع سیندرا کو نہ مل سکا کیونکہ ان کو ہسپتال سے ایک ایمرجنسی کال موصول ہوئي جس میں ان کو بتایا گیا کہ ان کی والدہ کو دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ ہسپتال میں ہیں یہ سنتے ہی سیندرا بد حواس ہو گئیں اور اپنی بیٹی کو کمبل میں لپیٹ کر گھر سے روانہ ہو گئیں- جلدی میں بس میں جب بیٹھیں تو ان کو یاد آیا کہ وہ اپنا پرس تو دوست کے گھر ہی میں بھول آئی ہیں مگر ان کے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ اس شدید سردی میں وہ واپس جائيں-

بس ڈرائیور کو انہوں نے اپنی صورتحال سمجھانے کی کوشش کی مگر ڈرائيور نے ان کی بات ماننے سے انکار کرتے ہوئے انہیں بس سے اترنے کا کہا مگر اسی دوران ان کے ساتھ بیٹھے کم عمر لڑکے نے ان کا کرایہ ادا کر دیا اور انہیں بس سے اترنے سے بچا لیا-

لڑکے نے اپنا تعارف ان کو نکولس کے نام سے کروایا اس لڑکے نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی دادی سے ملنے کے بعد گھر جا رہا ہے اور اس کی امی نے ہمیشہ اس کو اس بات کی نصیحت کی ہے کہ اگر کسی کی مدد کر سکو تو ضرور کرو اسی وجہ سے اس نےاس وقت میں سیندرا کا ٹکٹ ادا کر دیا-

سیندرا نے نکولس سے اس کے گھر کا پتہ لے لیا تاکہ اس کی ماں سے مل کر اس کی اتنی اچھی تربیت کا شکریہ ادا کر سکے- سیندرا اگلے دن جب نکولس کے گھر گئی تو اسے ان کے گھر کو دیکھ کر بہت صدمہ ہوا کیوں کہ یہ ماں بیٹا ایک بہت ہی چھوٹے سے دو کمروں کے گھر میں رہائش پزیر تھی اور نکولس کی ماں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے سخت محنت کرتی تھی اور نوکری سے واپس آئی ہوئی تھی اور تھکن اسکے چہرے سے عیاں تھی-

سیندرا گھر واپس آئی اور اس نے اس صورتحال کا ذکر اپنی دوست سے کیا جس نے اسے سوشل میڈيا کے ذریعے نکولس کی مدد کا آئيڈیا دیا اور اس طرح ان دوستوں نے نکولس اور اس کی ماں کے لیے سوشل میڈیا کی مدد سے ایک لاکھ ڈالر جمع کر لیے جو کہ کروڑوں روپے کے برابر تھے اس طرح سے ایک نیکی کے بدلے میں نکولس کو ایک بڑا انعام مل گیا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں