109

Which politician had already said that PTI grew up in Peshawar and this Kazwal will also be from Peshawar, shocking revelation

Members of different political parties join PTI - Pakistan - Dunya News

وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول نے پہلے ہی کہا تھا کہ پی ٹی آئی پشاورسے پروان چڑھی اس کازوال بھی پشاورسے ہوگا۔سندھ میں کوئی نیا بلدیاتی نظام نہیں آیا ہے بلکہ 2013 کے اس بلدیاتی نظام جس کے تحت انتخابات ہوئے تھے اس کو بہتر کرنے کے لئے اس میں ترامیم کی گئی ہیں۔ عوام نے جس طرح خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کا بلدیاتی
انتخابات میں جنازہ نکالا ہے ، اسی طرح سندھ، پنجاب سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں آنے والے بلدیاتی انتخابات میںاس کا جنازہ

مزید دھوم دھام سے نکالے گی۔ اس ملک کے عوام بالخصوص نواجوانوں کے پاس امید کی واحد کرن اب بلاول بھٹو زرداری ہے، جو تمام عوامی اشیوز پر کھل کر بات کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے منگل کے روز سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نواب زادہ نصر اللہ خان کے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی مظفر گڑھ نواب زادہ افتخار حسین، سابق رکن قومی اسمبلی علی راشد، سابق رکن سندھ اسمبلی سلیم بندھانی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

سعید غنی نے کہا کہ کے پی کے بلدیاتی انتخابات کے مکمل نتائج آنے باقی ہیں اور کئی مقامات پر نتائج کو روکا گیا ہے، لیکن آنے والے نتائج کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو کی یہ بات درست ثابت ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی پشاورسے پروان چڑھی اور اس کازوال بھی پشاورسے ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ جونتائج آئے ہیں ان میں وفاق اورصوبائی وزراء کی مداخلت کولوگوں نے رد کیا۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان کے پی کے میں خود بھی گئے، وزراء نے دھمکیاں دی لیکن عوام نے ان سب کو رد کردیا اور کے پی کے سے پی ٹی آئی کاجنازہ نکال دیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کے پی کے نتائج میں اپوزیشن جماعتوں کو پی ٹی آئی کے مقابلے تین سے چارگنا زیادہ ووٹ پڑاہے اور اگرسب جماعتیں ملکرلڑتی توشاید ان کوملی ہوئی نشستیں بھی نہ ملتی۔

انہوںنے کہا کہ کے پی کے کے نتائج سے پی ٹی آئی کاپنجاب اورسندھ میں کیاحشرہوااندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ میںاکثرلوگ کہتے ہیں نیابلدیاتی نظام نہیں آیا ہے اور اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں نے بینرز بھی آویزاں کئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہم سندھ میں کوئی نیا بلدیاتی نظام نہیں لائے ہیں بلکہ 2013کے نظام میں بہتری لانے کے لئے ترامیم کی گئی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اپنے آپ کو کراچی کا ٹھیکیدار بتانے والی ایم کیو ایم آج اس ملک میں بدترین مہنگائی، بجلی کی قیمتوں میں بے جا اضافے، گیس کے بحران، ادویات، پیٹرول، گھی، تیل، چینی اور آٹے سمیت تمام روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے بعد بھی خاموش ہے لیکن وہ بلدیاتی بل کو لے کر لوگوں میں لسانیت اور تعاصب پھیلانے کے معاملے میں آگے ہے۔ انہوںنے کہا کہ جو شخص نواجوانوں کا نام لے کر تبدیلی کے نعرے لگا کر کسی کے کاندھوں پر حکومت میں آیا اس کا عوام نے اپنے ووٹوں کی طاقت سے جنازہ نکال دیا ہے تو یہ لسانی تعصب پھیلانے والوں کو بھی
اب گھر بھیج دیں گے۔

اس موقع پر نواب زادہ افتخار علی خان نے کہا کہ پنجاب کے اندر پیپلز پارٹی کا گراف بلند ہوا ہے اور گذشتہ ہونے والے 2 سے 3 ضمنی انتخابات میں دیگر تمام سیاسی جماعتوں کی نسبت ووٹوں کی تعداد میں کئی سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوںنے کہا کہ موجودہ حکومت نے اس ملک کی معیشت کے ساتھ ساتھ اس ملک کی زراعت جس پر 70 فیصد ہماری اکنامی کا انحصار ہے اس کو تباہ و برباد کردیا ہے اور صورتحال یہ ہے کہ ہم جن جن زراعت میں جن جن فصلوں میں خود کفیل تھے اب یہ اشیاء باہر
سے منگوانی پڑ رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اتفاق ہے کہ کل ہی کے پی کے کی اسمبلی نے شوکت ترین کو سینیٹر مقرر کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ شوکت ترین بطور شخصیت ایک اچھے انسان ہیں لیکن ان کی مثال یہی ہے کہ رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ہے۔

انہوںنے کہا کہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اگلا قربانی کا بکرا وہ نہ بن جائیں جیسا کہ مہنگائی کا الزام لگا کر حفیظ شیخ اور بعد ازاں حماد اظہر کا بکرا بنا دیا گیا تھا۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہا کہ ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ عوام باشعور ہے
اور وہ اپنا ووٹ دے کر ثابت کرتے ہیں کہ وہ کس کی پالیسیوں اور کسی کی حکومت پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ سندھ کے عوام پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو یہ ثابت ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی پالیسیوں سے خوش ہیں اور کے پی کے کے عوام نے ان مافیاز کی حکومت کو مسترد کرکے ثابت کردیا ہے کہ اس ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کے ذمہ دار عمران نیازی اور اس کے مافیاز پر اب وہ زیادہ اعتماد نہیں کرسکتے۔

ایک اور سوال پر انہوںنے کہا کہ میں آج میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ایم کیو ایم کا
سنجیدہ ووٹ بینک ہے اور اگر کسی جماعت کے پاس ووٹرز اور ان کا ووٹ بینک ہو تو اس سے بات چیت کے لئے ہمیشہ تیار ہیں۔لیکن لسانی اور تعصب کی سیاست کرنے والوں کے لئے ہم کسی قسم کی سنجیدگی نہیں رکھتے ہیں۔ فواد چوہدری کے بیان پر انہوںنے کہا کہ ذلت آمیز شکست کے بعد بھی اگر کوئی اس کو اپنی فتح قرار دے تو یہ شخص کس کے ساتھ کتنا مخلص ہے یہ ظاہر ہوتا ہے۔ ایک سوال پر انہوںنے کہا کہ خان صاحب کا ریکارڈ ہے کہ جس بات کا انہوںنے نوٹس لیا ہے اس کا کیا حشر ہوا ہے اس لئے
اگر وہ یہ کہتے ہیں

کہ دوسرے مرحلے میں وہ خود اس کو دیکھیں گے تو یہ تو بہت اچھا ہوگا اگر وہ پہلے مرحلے میں خود دیکھ لیتے تو آج جو چند ایک سیٹیں ان کو ملی ہیں وہ بھی نہ ملتی۔ گورنر سندھ کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ گورنر صاحب تو قانون کے تحت اپنا چپراسی بھی ٹرانسفر نہیں کرسکتے۔ وہ آج جو کچھ کررہے ہیں اور جس طرح غیر آئینی طور پر بیانات دے رہے ہیں ان کا چہرہ عوام کے سامنے عیاں ہورہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ گورنر صاحب کو عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے اور وہ جس طرح کررہے ہیں اس سے ان کا کردار سامنے آرہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں